سمت ۔۔ اردو ادب کا آن لائن جریدہ

Saturday, January 21, 2006

سمت

شمارہ۔ 2

جنوری 2006


ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا

پہلے تو نۓ سال کی مبارک باد قبول فرمائیں اگر چہ تاخیر سے ہی، اور وہی بات کہ ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔ اس کی وجہ بھی آگے دی جا رہی ہے۔

سمت کا دوسرا شمارہ حاضر خدمت ہے۔ اپنی راۓ سے نوازۓ گا۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ شمارہ تاخیر سے شائع ہو رہاہے۔ وجہ محض یہی رہی کہ دسمبر کے آخر میں مَیں امریکہ میں تھا (بلکہ نومبر سے ہی تھا اور سمت کا پہلا شمارہ وہاں سے ہی پوسٹ ہوا تھا) اور وہاں کچھ مصروف رہا اور اب نۓ سال میں ہندوستان واپس آیا ہوں تو انٹر نیٹ سے رابطہ چھوٹ چکا تھا۔ اور وہاں سے حیدر آباد آیا جہاں مستقل انٹر نیٹ کنکشن نہیں تھا۔ ناگ پور میں میری ملازمت ہےاب وہاں سے ہی انٹر نیٹ کا انتظام کر کے اب یہ شمارہ پوسٹ کر رہا ہوں۔

پہلے شمارےکے بارے میں احباب نے مشورہ دیا تھا کہ اسے نستعلیق میں کمپوز کیا جاۓ۔ حالاں کہ پچھلی بار ہی میں نے لکھا تھا کہ نستعلیق شکل دیکھنا ہو تو قارئین (بلکہ انٹر نیٹ کے لحاظ سے ملاقاتیوں) کو نفیس نستعلیق فانٹ (خط) ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کہ یہ ویب صفحات نستعلیق میں ہی بناۓ گۓ ہیں اگرچہ یہ نستعلیق فانٹ بھی فی الحال کچھ مسائل سے دو چار ہے۔ کچھ حضرات کو بغیر اس کے کچھ حروف ہی نظر نہیں آۓ جس کی وجہ یہی ہو سکتی تھی کہ ان کا کمپیوٹر اردو یا عربی، بلکہ انگریزی کے علاوہ کسی بھی دوسری زبان کے لۓ تیار نہیں ہے۔ اسی لۓ اس بار اپنا ہی ایک مضمون بھی شامل کر رہا ہوں جو اگرچہ تکنیکی نوعیت کا ہے، مگر اس کی افادیت ہر اردو داں کے لۓ مسلمّ ہے۔

پچھلا سال ہمارے لۓ بڑا ظالم رہا کہ اس نے نہ صرف کئی ادیبوں شاعروں کو ہم سے چھین لیا بلکہ ہند و پاک کے ہمالیائی علاقوں میں زلزلے نے سارے برّصغیر ہی نہیں، دنیا کو دہلا دیا۔ عارف فرہاد کی نظم ہم سب کے جذبات کی آئینہ دار ہے۔

اردو ادیبوں کے ساتحات انتقال پر تو اکثر اردو رسالوں نے لکھا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اردو میں امِرتا پریتم کی رحلت پر خاطر خواہ خراج عقیدت نہیں دیا گیا۔ امتیازالدین نے بخوبی ہمیں اس البیلی شخصیت سے واقف کرایا ہے اور کم لوگوں کو ہی معلوم کچھ حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔ امِرتا کی ایک اہم نظم بھی شامل ہے۔ امید ہے پسند آۓ گی۔ انٹڑ نیٹ کا یہ فائدہ ہے کہ یہ شمارہ ہندوستان یا پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں دستیاب ہے جو کہ کسی بھی اور جریدے کے پرنٹ ورژن کو نصیب نہیں۔ اور پاکستانی قارئین کے لۓامرتا کا یہ ذکر خوش آئند ثابت ہوگا۔

حیدر آباد دکن کے شاعر ذکی بلگرامی بھی نہیں رہے، ان کی غالباً ایک آخر ی غزل اور ساتھ ہی پروفیسر مغنی تبسم کا ذکی کے اشعار کا انتخاب بھی اس شمارے کی اہم شمولیات میں سے ہے۔

یہی ماہ میرے والد محترم صادق اندوری کی بیسویں برسی کا بھی ہے، ان کی آخری غزل اور ایک آخری شعر بھی شامل کر رہا ہوں۔

آپ کی راۓ کا انتظار رہے گا۔

ایک اہم بات اور۔

ہمیں یہ محسوس ہوا ہے کہ ہمیں تخلیقات اتنی حاصل نہیں ہو رہی ہیں کہ اس جریدے کو ماہنامہ کرنےپر مصر رہا جاۓ۔ اگر خاطر خواہ پذیرائی ہو تو دوسری بات ہے، لیکن موجودہ حالات میں اسے سہ ماہی کر دیا جاۓ تو کیسا رہے؟ نۓ سال کی وجہ سے ہم نے یہ شمارہ تو جنوری میں ہی شائع کر دیا ہے، لیکن آپ کے مشورے کا انتظار ہے کہ اگلا شمارہ فروری میں نکالا جاۓ یا اپریل میں یا پھر دو ماہی کرنے پر مارچ میں!!

اعجاز عبید

20 جنوری 2006

مشمولات

امِرتا پریتم کی یاد میں سید امتیاز الدین

وارث شاہ سے امِرتا پریتم

غزل ذکی بلگرامی

ذکی بلگرامی کے اشعار کا انتخاب مغنی تبسم

) گاہے گاہے…. ( موذیل سعادت حسن منٹو

غزلیں صادق اندوری

ثلاثی : ( ایک بحر میں ) حمایت علی شاعر

پابہ گُل حمایت علی شاعر

کمپیوٹر اور انٹر نیٹ پر اردو تحریر اعجاز عبید

دو ہندی نظمیں راج کمار سینی

وَمَا اَدرٰ کَ ماالقَارِعَہ عارف فرہاد

پردے جو نفرتوں کے تھے ڈاکٹر بلند اقبال

ہار-جیت ریحانہ احمد

غزل فہیم احمد فہیم میئو

دوسری ناہید حمید قیصر

غزل شمبھو ناتھ تواری

) اقتباس (زاویہ اشفاق احمد

غزل اعجاز عبید

Friday, January 20, 2006

امِرتا پریتم کی یاد میں

سید امتیاز الدین

پنجابی اور ہندی کی نام ور ادیبہ اور اردو شعرو ادب کی دلدادہ امِرتا پریتم 31 اکتوبر 2005 کو اس زندگی سے جسے وہ پنجرہ سمجھتی تھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لۓ آزاد ہو گئیں۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 86 سال تھی۔ 2002ء میں اپنے گھر میں ہی گرنے سےان کے کولھےکی ہڈّی ٹوٹ گئی تھی جو آپریشن کے باوجود ٹھیک نہ ہو سکی اور وہ آخری سانس تک فریش رہیں۔ امِرتا اتنی تکلیف میں تھیں کہ ان کے چاہنے والے دعا کرنے لگے تھے کہ اس تکلیف سے ان کو جلد نجات ملے۔ امِرتا کو سردیوں کا موسم پسند نہیں تھا کیوں کہ اس موسم میں ان کے جوڑوں کا درد اور بڑھ جاتا تھا۔اتّفاق سے جب ان کا انتقال ہوا تو دلیّ میں سردیوں کی آمد آمد تھی۔

امِرتا پریتم 31 اگست 1919 کو پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ گجرانوالہ اب پاکستان میں ہے۔ تقسیم کے بعد امِرتا کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا جس کا رنج انھیں تا عمر رہا۔ یہی کرب ان کی تضحریروں میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ امِرتا بہت خوب صورت تھیں۔ ان کی ابتدائی تربیت ایک انتہائی مذہبی گھرانے کی سکھ لڑکی کی طرح ہوئی۔ پندرہ سولہ سال کی عمر میں وہ اپنے والد کے ساتھ لاہور آئیں اور یہیں ان کی نظموں کا پہلا مجموعہ 1936 میں امرت لہریں کے نام سے شائع ہوا۔

امِرتا کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر لاہور کے انار کلی بازار کے ایک تاجر نے اپنے بیٹے پریتم سنگھ سے ان کی شادی کر دی۔اس شادی کی یادگار ایک لڑکا ہے۔ تقسیم کے بعد امِرتا اور پریتم سنگھ دہلی آ گئے۔ پریتم سنگھ نے تجارت شروع کی لیکن ناام رہے۔ امِرتا نے آل انڈیا ریڈیو میں مالازمت کر لی اور لکھنے لکھانے کا سلسلہ جارہ رکھا۔ 1960 میں امِرتا نے پریتم سے طلاق حاصل کر لی لیکن شوہر سے انھوں نے بچے کے سوا کچھ طلب کرنا پسند نہیں کیا۔

1961 میں انھوں نے ملازمت چھوڑ دی اور شعرو ادب کی ہو کر رہ گئیں۔ انھوں نے اپنا رسالہ ناگ منی جاری کیا جسے وہ پینتیس برس تک نکالتی رہیں۔ تریل دھوت پھول، او گیتاں والیا، باولاں دی لالی، لوک پگرے، پنجابی دی آواز، سنہرے، اشوکا چھیتی، کستوری، ناگ منی، چک نمبر چھتّی، کاغذتے کیا نواس، کچی سڑک، انچاس دن ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کا ناول پنجر اور سوانح عمری رسیدی ٹکٹ بہت مقبول ہوۓ۔ الف لیلہ ہزار داستان ان کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ امِرتا پریتم کو 1957 میں ساہتیہ اکیڈیمی اوارڈ دیا گیا اور 1969 میں انھیں پدم شری سے نوازا گیا۔ پچھلے سال ہی ان کو پدم وبھوشن کا خطاب دیا گیا تھا۔ 1982 میں ان کو ملک کا سب سے بڑا ادبی اعزاز گیان پیٹھ اوارڈ دیا گیا۔ فرانس اور بلغاریا کی حکومتوں نے انھیں 1987اور 1988 میں بالترتیب انعام دیا، ملک کی پانچ یونیورسٹیوں نے انھیں ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری دی۔

خوشونت سنگھ نے ان مکے ناول پنجر کا انگریزی میں ترجمہ کیاتھا ۔ خوشونت سنگھ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی کتاب کی رایلٹی امِرتا کو اس شرط پر دینے کا وعدہ کیا تھا کہ امِرتا اپنے عشق کی داستان انھیں سنائیں۔ امِرتا نے وعدہ نبایا بھی لیکن خوش ونت سنگھ کو یہ داستاں بہت مختصر لگی۔ انھوں نے امِرتا سے کہا کہ آپ کی دفاستان حیات تو بس ایک ڈاک ٹکٹ پر لکھی جا سکتی ہے۔ خوشونت کا خیال ہے کہ ان کی اس بات پر ہی انھوں نے اپنی سوانح کو رسیدی ٹکٹ کا نام دیا تھا۔

امِرتا کئی بار اپنی تحریروں کی بے باکی کے باعث پریچانیوں کا شکار ہوئیں۔ ایک بار ہندی کہانی کارکرشنا سوبتی نے ان پر مقدمہ کر دیا کہ امِرتا کی ایک کتاب جو ایک انقلابی کے بارے میں تھی، اس کا نام بھی امِرتا نے زندگی نامہ رکھا تھا جو کرشنا سوبتی کی سوانح عمری کا نام بھی تھا۔ کرشنا سوبتی نے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا یہ مقدمہ دائر کیا تو خوش ونت سنگھ امریا کی طرف سے عدالت سے رجوع ہوۓ۔ وہ اپنے ساتھ ایک درجن فارسی کتابیں لے گۓ جن کا نام زندگی نامہ تھا۔ انھوں نے عدالت کو بیان دیا کہ کئی برس پہلے گرو گوبند سنگھ کی سوانح بھی ااسی نام سے لکھی گئی تھی۔ زندگی نامہ فارسی کی ایسی عاماصطلاح ہے کہ اسے کاپی رائٹ نہیں کیا جا سکتا۔ جج نے امِرتا کے حق میں مقدمہ خارج کر دیا۔

اردو شعروادب سے انھیں گہرا لگاؤ تھا۔ وہ ساحر لدھیانوی کی شاعری اور شخصیت دونوں سے متاّثر تھیں اورت انھوں نے ساحر کے بارے میں اپنے جذبات کسی سے مخفی نہیں رکھے۔ امِرتا کے بیٹے نے ان سے پوچھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں ساحر انکل کا بیٹا ہوں۔ امِرتا نے جواب دیا۔ کاش تم ساحر کے بیٹے ہوتے۔

امِرتا پریتم پاکتان کے ادیبوں شاعروں میں بھی بہت مقبول تھیں۔ پاکستانی شاعرہ سارہ شگفتہ کو وہ بہت عزیز رکھتی تھیں۔ انھوں نے سارہ کے لۓ ناگ منی کا خصوصی شمارہ بھی نکالا۔ ذہنی طور پر نا آسودہ اس شاعرہ کو امِرتا نے بہت دلاسہ دیا لیکن ہہ بد نصیب شاعرہ جب پاکستان وا[س ھئی تو اس نے ریل کی پٹریوں پر لیٹ کر خود کشی کر لی۔ فلم پنجر جسے چندر پرکاش دویدی نے امِرتا کی کتاب پر بنایا تھا، ایک ایسا گیت استعمال کیا جانا تھا جو پاکستانی شاعرہ زہرہ نگاھ کا لکھا ہوا تھا۔ ان دنوں کارگل کی جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ ان حالات میں بھی فلم ساز نے زہرہ نگاگ سے ربط پیدا کیا تو انھون نے کہا کہ ار یہ گیت امِرتا پریتم کی فلم کے لۓ ہے تو اسے میری طرف سے تحفہ سمجھۓ۔

امِرتا نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں جیوتی سبھروال سے کہا تھا کہ میری تحریروں کا انتخاب بھی تم ہی مرتب کرو اور اس کا نام نواں پھول رکھو۔ جب سبھروال نے ان سے پوچھا کہ نویں پھول سے آپ کی مراد کیا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ پوجا میں دیوی دیوےتاؤں کے لۓ آٹھ پھول چڑھاۓ جاتے ہیں۔ میں یہ نواں پھول الفاظ کی نذر کر رہی ہوں جن سے میری تحریریں معنی کا لباس نتی ہیں۔

امِرتا بہت منکسر المزاج تھیں۔ اپنے انعامات بھی وہ ڈرائنگ روم میں سجا کر نہیں رکھتی تھیں۔ وہاں ان کے رفیق حیات امروز کی پینٹنگس لگی تھیں۔ امِرتا نے کبھی انعامات کے حصول کی کوشش بھی نہیں کی حالاں کہ اندرا گاندھی انھیں بے حد عزیز رکھتی تھیں۔ ایک بار اندرا جی نے ان سے کہا تھا کہ میں خود کو بہت تنہا محسوس کرتی ہوں۔ امِرتا نے جواب میں بڑی بے باکی سے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ خود غرض لوگوں سے گھری ہوئی ہیں۔

امِرتا پریتم کو حقیقی محت امروز سے تھی جو ان کے رفیق حیات تھے۔ امِرتا کی کتابوں کے سرورق بھی انھوں نے بناۓ ہیں۔ امروز امِرتا کے عاشق، رفیق، خدمت گار، چارہگر، نگہبان سبھی کچھ تھے۔ انھوں نے آخر وقت تک امِرتا کی خدمت کا حق ادا کیا۔

اپنی سوانح عمری کی دوسری قسط الفاظ کے ساۓ میں وہ کہتی ہیں:

’’آج میں کنارے کو چھوڑ کر دریا میں اترنا چاہتی ہوں

اور اس دریا کو عبور کر کے سدارے سوالوں کے جواب کھوجنا چاہتی ہوں

شاید ان سوالں کے جوابوں میں میرے دکھ کا مداوا ہے‘‘

آج یہ بے مثال شاعرہ اپنے سوالوں کا جواب ڈھونڈھنے کے لۓ بہت دور نکل گئی ہے۔

Thursday, January 19, 2006

وارث شاہ سے

امِرتا پریتم

آج وارث شاہ سے کہتی ہوں

اپنی قبر سے بولو!

اور عشق کی کتاب کا

کوئی نیا ورق کھولو

پنجاب کی ایک بیٹی روئی تھی

تو نے اس کی لمبی داستان لکھی

آج لاکھوں بیٹیاں رو رہی ہیں

وارث شاہ تم سے کہہ رہی ہیں

’اے درد مندوں کے دوست

پنجاب کی حالت دیکھو

چوپال لاشوں سے اٹا پڑا ہے

چناب لہو سے بھر گیا ہے

کسی نے پانچوں دریاؤں میں

زہر ملا دیا ہے

اور یہی پانی

دھرتی کو سینچنے لگا ہے

اس زر خیز دھرتی سے

زہر پھوٹ نکلا ہے

دیکھو سرخی کہاں تک آ پہنچی۔۔۔!

اور قہر کہاں تک آ پہنچا۔۔!

پھر زہریلی ہوا

ون جنگلوں میں چلنے لگی

اس نے ہر بانس کی بانسری

جیسے ایک ناگ بنا دی

ان ناگوں نے لوگوں کے ہونٹ ڈس لۓ

پھر یہ ڈنک بڑھتے گۓ

اور دیکھتے دیکھتے پنجاب کے

سارے انگ نیلے پڑ گۓ

ہر گلے سے گیت ٹوٹ گیا

ہر چرخے کا دھاگا ٹوٹ گیا

سہیلیاں ایک دوسرے سے بچھڑ گئیں

چرخوں کی محفل ویران ہو گئی

ملاحوں نے ساری کشتیاں

سیج کے ساتھ ہی بہا دیں

پیپلوں نے ساری پینگیں

ٹہنیوں کے ساتھ توڑ دیں

جہاں پیار کے نغمے گونجتے تھے

وہ بانسری جانے کہاں کھو گئی

اور رانجھے کے سارے بھائی

بانسری بجانا بھول گۓ

دھرتی پر لہو برسا

قبروں سے خون ٹپکنے لگا

اور پربت کی شہزادیاں

مزاروں میں رونے لگیں

آج جیسے سبھی ’کیدو‘ بن گۓ

حسن اور عشق کے چور

میں کہاں سے ڈھونڈھ لاؤں

ایک وارث شاہ اور

وارث شاہ! میں تم سے کہتی ہوں

اپنی قبر سے اٹھو

اور عشق کی کتاب کا

کوئی نیا ورق کھولو

(سب رس حیدرآباد دسمبر 2006 کے شمارے سے)

غزل

ذکی بلگرامی

(وفات 24 اکتوبر 2005)

دۓ کو چاند کبھی کبھی چاند کو دیا لکھنا

ہمیں کبھی نہیں آیا الا بلا لکھنا

سخن غریب سہی پھر بھی میرے مسلک میں

روا نہیں ہے کسی کا لکھا ہوا لکھنا

مرے عدو سے تمھارے بڑے روابط ہیں

اسے جو خط کبھی لکھنا مری دعا لکھنا

ہماری رات کا معمول بن گیا ہے ذکی

جھلستے دن کی شہادت کا مرثیہ لکھنا

ذکی بلگرامی کے اشعار کا انتخاب۔۔۔۔ مغنی تبسم

اک عذابِ سفر در سفر اور میں

شہ پروں میں لہو بوند بھیر اور میں

زندگی بھر ہواؤں سے لڑتے رہے

اک شکستہ سی شاضِ شجر اور میں

دھوپ اوڑھے ہوۓ چل رہے ہیں ذکی

یہ مرا جادۂ بے شجر اور میں

اک بادِ بے لحاظ کے دامن کو تھام کر

خوش بو لباسِ شاخِ شجر سے نکل گئی

میں نواۓ جرس جاں سے بھی محروم ہوا

گھر کے سناٹے نے کیا شور مچا رکھا ہے

ہمیں تلاش ہے دراصل اک مدینے کی

اسسی لۓ تو ہمیں شوق ہجرتوں کا ہے

زمیں کا بارِ امانت زمیں کو لوٹا کر

سروں کا قافلہ مقتل سے سرخ رو نکلا

ایک اک سچا جذبہ دل کی بستی سے

ہجرت کرنے کیوں آمادہ رہتا ہے

ہم شجر معتوب پتوں کی کوئی منزل نہیں

چل پڑیں گے ہم ادھر آندھی جدھر لے جاۓ گی

نکل پڑا ہے تو اب سایۂ بشجر میں نہ بیٹھ

سفر کی شرط یہی ہے کہ رہگزر میں نہ بیٹھ

کراں تا کراں آسمانوں میں رکھ

مجھے زندگی بھر اڑانوں میں رکھ

سفینے میں رکھ کوئی موج بلا

عذابِ ہوا بادبانوں میں رکھ

درونِ آئینہ خانہ لرز رہا ہے وجود

خود اپنے مدِٓ مقابل ہوں ڈر تو ہوگا ہی

لمحہ لمحہ منکشف ہوتا ہوا جیسے کہ تو

محوِ حیرت آئینہ در آئینہ جیسے کہ میں

ایک مٹھی گرد کہساروں کو سر کرتی ہوئی

ایک تنکا راکبِ دوشِ ہوا جیسے کہ میں

یہ مرا لمحۂ بے کراں اور تو

یہ مری ساعتِ مختصر اور میں

آنے والے پل میں کیا سے کیا ہو جاۓ

ایک شکستہ ٹہنی پر ہیں میں اور تو

بھرے مکان کے اندر ذکی کھنڈر نکلے

چہکتے بولتے آنگن میں دشتِ ہو نکلا

سر سے خمارِشہر نوردی اتر گیا

زنجیرِ جادہ پاۓ سفر سے نکل گئی

جس بے کلی سے تھی بڑی دیرینہ رسم و راہ

وہ بھی تو آج دل کے کھنڈر سے نکل گئی

گاہ عبا دھوپ کی، گاہ قبا چھاؤں کی

خاک نشینوں کی خوش پیرہنی دیکھنا

گاہے گاہے باز خواں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

موذیل

سعادت حسن منٹو

ترلو چن نے پہلی مرتبہ ۔۔۔۔۔۔چار برسوں میں میں پہلی مرتبہ رات کو آسمان دیکھا تھا اور وہ بھی اس لئے کہ اس کی طبعیت سخت گھبرائی ہوئی تھی اور وہ نہ محض کھلی ہوا میں کچھ دیر سوچنے کیلئے اڈوانی چیمبرز کے ٹیرس پر چلا آیا تھا۔

آسمان بالکل صاف تھا بادلوں سے بے نیاز، بہت بڑے خاکستری تنبو کی طرح ساری بمبئی پر تنا ہوا تھا، حد نظر تک جگہ جگہ بتیاں روشن تھیں، ترلو چن نے ایسا محسوس کیا تھا کہ آسمان سے بہت سارے ستارے جھڑ کر بلڈنگوں سے جو رات کے اندھیرے میں بڑے بڑے درخت معلوم ہوتی تھیں، اٹک گئے، اور جگنوؤں کی طرح ٹمٹارہے ہیں۔

ترلوچن کیلئے یہ بالکل ایک نیا تجربہ، ایک نئی کیفیت تھی، ۔۔۔رات کو کھلے آسمان کے نیچے ہونا اس نے محسوس کیا کہ وہ چار برس تک اپنے فلیٹ میں قید رہا، اور قدرست تھی کہ ایک بہت بڑی نعمت سے محروم، قریب قریب تین بجے تھے، ہوا بے حد ہلکی ہلکی تھی، ترلو چن پنکھے کی میکانی ہوا کا عادی ہوچکا تھا، جو اس کے سارے وجود کو بوجھل کردیتی تھی، صبح اٹھ کر وہ ہمیشہ یوں محسوس کرتا تھا، کہ رات بھر اس اس کو مارا پیٹا گیا ہے، پر اب صبح کی قدرتی ہوا میں اس کے جسم کا رواں رواں، تروتازگی چوس کر خوش ہو رہا تھا، جب وہ اوپر آیا تھا تو اس کا دل و دماغ سخت مضطرب اور ہیجان زدہ تھا، لیکن آدھے گھنٹے ہی میں وہ اضطراب اور ہیجان جو اس کو بہت تنگ کر رہا تھا، کسی حد تک ٹھنڈا ہو گیا تھا اور اب صاف طور پر سوچ سکتا تھا۔ کرپال کو راور کا سارا خاندان۔۔۔۔۔محلے میں تھا، جو کٹر مسلمانوں کا مرکز تھا، یہاں کئی مکانوں کو آگ لگ چکی تھی، کئی جانیں تلف ہوچکی تھیں، ترلو چن ان سب کو لے آیا ہوتا، مگر مصیبت یہ تھی، کہ کرفیو نافذ ہوگیا تھا اور وہ بھی نہ جانے کتنے گھنٹوں کا۔۔۔۔غالبا اڑتالیس گھنٹوں کا ۔۔۔۔۔ اور ترلو چن لازما مغلوب تھا، آس پاس سب مسلمان تھے، بڑے خوفناک مسلمان تھے، اور پنجاب سے دھڑا دھڑ خبریں آرہی تھیں کہ وہاں سکھ مسلمانوں پر بہت ظلم ڈھا رہے ہیں، کوئی بھی ہاتھ۔۔۔مسلمان ہاتھ بڑی آسانی سے نرم و نازک کرپال کور کی کلائی پکڑ کر موت کے کنوئیں کی طرف لے جاسکتا تھا۔

کرپال کی ماں اندھی تھی، باپ مفلوج، بھائی تھا، وہ کچھ عرصے سے دیوالی میں تھا کہ اسے وہاں اپنے تازہ تازہ لئے ہوئے ٹھیکے کی دیکھ بھال کرنا تھی، ترلو چن کو کرپال کے بھائی نرجن پر بہت غصہ آتا تھا، اس نے جو کہ ہر روز اخبار پڑھتا تھا، فسادات کی تیزی و تندہی کے متعلق ہفتہ بھر پہلے آگاہ کر دیا تھا، اور صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا، نر نجن یہ ٹھیکے ویکے رہنے دو ہم ایک بہت ہی نازک دور سے گزر رہے ہیں، تمہارا اگر چہ رہنا بہت ضروری ہے، لیکن یہاں سے اٹھ جاؤں اور میرے یہاں چلے آؤ، اس میں کوئی شک نہیں کہ جگہ کم ہے، لیکن مصیبت کے دنوں میں آدمی کسی نہ کسی طرح گزارا کر لیا کرتا ہے، مگر وہ مانا، اس کا اتنا بڑا لیکچر سن کر صاف اپنی گھنی موچھوں میں مسکرادیا، یار تم خواہ مخواہ فکر مند ہوتے ہو۔۔۔۔میں نے یہاں ایسے کئی فساد دیکھے ہیں، یہ امرتسر یا لاھور نہیں ہے، بمبے ہے۔۔۔۔۔بمبے تمہیں یہاں آئے صرف چار برس ہوئے ہیں، اور میں بارہ برس سے یہاں ہوں۔۔۔۔۔بارہ برس سے۔

جانے نرجن بمبئی کو کیا سمجھتا تھا، اس کا خیال تھا کہ یہ ایسا شہر ہے، اگر فساد برپا بھی ہو تو انکو اثر خود بخود زائل ہوتا ہے، جیسے کہ اس کے پاس چھو منتر ہے۔۔۔۔۔۔یا وہ کہانیوں کا کوئی ایسا قلعہ ہے، جس پر کوئی آفت نہیں آسکتی ہے مگر ترلو چن صبح کی ٹھنڈی ہوا میں صاف دیکھ رہا تھا کہ۔۔۔۔۔محلہ بالکل محفوظ نہیں، وہ تو صبح کے اخباروں میں یہ بھی پڑھنے کیلئے تیار تھا کہ کرپال کور اور اس کے ماں بار قتل ہو چکے ہیں۔اس کو کرپال کور کے مفلوج باپ اور اس کی اندھی ماں کی کوئی پرواہ نہیں تھی، وہاں دیو لالی میں اس کا بھائی نرنجن بھی مارا جاتا تو اور بھی اچھا تھا، کہ ترلو چن کیلئے میدان صاف ہوجاتا، خاص طور پر نجن اس کے راستے میں ایک روڑا ہی نہیں، بہت بڑا گھنگھرا تھا چناچہ جب کبھی کرپال کور اس کی بات ہوتی تو وہ اسے نرنجن سنگھ کے بجائے کھنگر سنگھ کہتا۔

صبح کی ہوا دھیرے دھیرے بہہ رہی تھی۔۔۔۔ ترلو چن کا کیسوں سے بے نیاز سر بڑی خوشگوار ٹھنڈک محسوس کر رہا تھا مگر اس کی زندگی میں داخل ہوئی تھی، وہ یوں تو ہے کئے کھنگھر سنگھ کی بہن تھی، مگر بہت ہی نرم، نازک لچکیلی تھی، اس نے دیہات میں پرورش پائی تھی، وہاں کی کئی گرمیاں سردیاں دیکھیں تھیں، مگر اس میں وہ سختی، وہ گھٹاؤ، وہ مردانہ پن، نہیں تھا، جو دیہات کی عام سکھ لڑکیوں میں ہوتا ہے، جنہیں کڑی سے کڑی مشقت کرنے پڑتی ہے۔

اس کے نقش پتلے پتلے تھے، جیسے ابھی نامکمل ہیں، چھوٹی چھوٹی چھاتیاں تھیں جن پربالائیوں کی چند اور تہیں چڑھنے کی ضرورت تھی، عام سکھ لڑکیوں کے مقابلے میں اس کا رنگ گورا تھا مگر کورے لٹھے کی طرح اور بدن چکنا تھا، جس طرح مرسی رائنز کپڑے کی سطح ہوتی ہے، بے حد شرمیلی تھی۔

ترلو چن اسی کے گاؤں کا تھا، مگر زیادہ دیر وہا رہا نہیں تھا، پرائمری سے نکل کر جب وہ شہر کے ہائی اسکول میں گیا تو بس پھر وہیں کا ہو گیا، اسکول سے فارغ ہوکر کالج کی تعلیم شروع ہوگئی، اس دوران میں کئی مرتبہ لاتعداد مرتبہ اپنے گاؤں گیا، مگر اس نے کرپال کور کے ناک کی کسی لڑکی کا نام تک نہ سنا شاید اس لئے کہ ہر بار اس افرا تفری میں رہتا تھا کہ جلد از جلد واپس شہر پہنچے۔

کالج کا زمانہ بہت پیچھے رہ گیا تھا، اڈوانی چیمبرز کے ٹیریس اور کالج کی عمارت میں غالبا دس برس کا فاصلہ اور یہ فاصلہ ترلو چن کی زندگی کے عجیب و غریب واقعات سے پر تھا، برما، سنگا پور، ہانگ کانگ۔۔۔۔پھر بمبئی جہاں وہ چار برس سے مقیم تھا۔ان چار برسوں میں اس نے پہلی مرتبہ رات کو آسمان کی شکل دیکھی تھی، جو بری نہیں تھی۔۔۔۔خاکستری رنگ کے تنبو کی چھت میں ہزار ہادئیے، روشن تھے، اور ہوا ٹھنڈی اور ہلکی پھلکی تھی۔

کر پال کور کا سوچتے سوچتے، وہ موذیل کے متعلق سوچنے لگا، اس یہودی لڑکی کے بارے جو اڈوانی چیمبرز میں رہتی تھی، اس سے ترلو چن کو گوڈے گوڈے عشق ہوگیا تھا، ایسا عشق جو اس نے اپنی پینتیس برس کی زندگی میں کبھی نہیں کیا تھا۔

جس دن اس نے اڈوانی چیمبرز میں اپنے ایک عیسائی دوست کی معرفت دوسرے مالے پر فلیٹ لیا اسی دن اس کی مدبھیڑ موذیل سے ہوئی۔ گو پہلی نظر دیکھنے پر اسے خوفناک دیوانی معلوم ہوئی، کٹے ہوئے بھورے بال، اس کے پریشان تھے، بے حد پریشان، ہونٹوں پر لپ اسٹک یوں جمی جیسے گاڑھا خون اور وہ بھی جگہ جگہ سے چیختی ہوئی تھی، ڈھیلا ڈھالا لمبا سفید چغہ پہنے تھی، جس کے کھلے گریباں سے اس کی نیل پڑی بڑی بڑی چھاتیا چوتھائی کے قریب نظر آرہی تھی، بانہیں جو کہ ننگی تھیں، مہین مہین بالوں سے اٹی ہوئی تھیں، جیسے وہ ابھی ابھی کسی سیلون سے بال کٹوا کر آئی ہے، اور ان کی نھنی نھنی ہوائیاں ان پر جم گئی ہیں۔

ہونٹ اتنے موٹے نہیں تھے مگر گہرے عنابی رنگ کی لپ اسٹک کچھ اس انداز سے لگائی گئی تھی، کہ وہ موٹے اور بھینسے کے گوشت کے ٹکڑے معلوم ہوتے تھے۔

ترلو چن کا فلیٹ اس کے فلیٹ کے بالکل سامنے تھا بیچ میں ایک تنگ گلی تھی، بہت ہی تنگ، جب ترلو چن اپنے فلیٹ میں داخل ہونے کیلئے آگے بڑھا تو موذیل باھر آگئی، کھڑاؤں پہنے تھی، ترلو چن ان کی آواز سن کر رک گیا، موذیل نے اپنے پریشان بالوں کی چقوں مین سے بڑی بڑی آنکھوں سے ترلو چن کی طرف دیکھا اور ہنسی۔۔۔۔۔۔ترلو چن بوکھلا گیا، جیب سے چابی نکال کر وہ جلدی سے دروازے کی جانب بڑھا، موذیل کی ایک کھڑاؤں سیمنٹ کے چکنے فرش پر پھسلی اور اس کے اوپر آرہی۔

جب ترلو چن سنبھلا تو موذیل اس کے اوپر تھی، کچھ اس طرح کہ اس کا لمبا چغہ اوپر چڑھ گیا تھا اور اس کی دو ننگی، بڑی تگڑی ٹانگیں اس کے ادھر ادھر تھیں، اور جب ترلو چن نے اٹھنے کی کوشش کی تو بوکھلاہٹ میں کچھ اس طرح موذیل۔۔۔۔۔ساری موذیل سے الجھا جیسے وہ صابن کی طرح اس کے سارے بدن پر پھر گیا ہے۔جب ترلو چن نے ہانپتے ہوئے مناسب و موزوں الفاظ میں اس سے معافی مانگی، موذیل نے اپنا لبادھ ٹھیک کیا اور مسکرادی یہ کھڑاؤں ایک دم کنڈم چیز ہے، اور وہ اتری ہوئی کھڑاؤں میں اپنا انگوٹھا اور اس کے ساتھ والی انگلی پھنساتی کوریڈور سے باہر چلی گئی۔

تر لو چن کا خیال تھا کہ موذیل سے دوستی پیدا کرنا شاید مشکل ہو لیکن وہ بہت ہی تھوڑے عرصے میں اس سے گھل مل گئی، لیکن ایک بات تھی کہ وہ بہت خود سر تھی، وہ ترلو چن کو کبھی خاطر میں نہیں لاتی تھی، اس سے کھاتی تھی، اس سے پیتی تھی، اس کے ساتھ سینما جاتی تھی، سارا سارا دن اس کے ساتھ جو ہو پر نہاتی تھی، لیکن جب وہ بانہوں اور ہونٹوں سے آگے بڑھنا چاہتا تو اسے ڈانٹ دیتی، کچھ اس طور پر سے گھر کتی کہ اس کے سارے ولولے اس کی داڑھی اور مونچھو میں چکر کاٹتے رہ جاتے۔

ترلو چن کو پہلے کسی کے ساتھ محبت نہیں ہوئی تھی، لاہور میں، برما، سنگاپور میں وہ لڑکیاں کچھ عرصے کے لئے خریدچکا تھا، اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ بمبئے پہنچتے ہی وہ ایک نہایت الہڑ قسم کی یہودی لڑکی کے عشق میں گوڈے گوڈے دھنس جائے گا، وہ اس سے کچھ عجیب قسم کی بے اعتنائی اور بے التفاتی برتتی تھی، اس کے کہنے پر فورا سج بن کر سینماجانے پر تیار ہوجاتی تھی، مگر جب وہ اپنی سیٹ پر بیٹھتے تو ادھر ادھر نگاہیں دوڑانا شروع کر دیتی، کوئی اس کا آشنا نکل آئے تو اس سے ہاتھ ہلاتی اور ترلو چن سے اجازت لئے بغیر اس کے پہلو میں جا بیٹھتی۔

ہوٹل میں بیٹھے ہیں ترلو چن نے خاص طور پرموذیل کیلئے پر تکلف کھانے منگوائے ہیں، مگر اس کو کوئی اپنا دوست نظر آ گیا اور وہ نوالہ چھوڑ کر پاس جا بیٹھتی ہے اور ترلو چن کے سینے پر مونگ دل رہی ہے۔

ترلو چن بعض اوقات بھناجاتا تھا، کیونکہ وہ اسے قطعی طور پر چھوڑ کر اپنے ان پرانے دوستوں اور شناساؤں کے ساتھ چلی جاتی تھی، اور کئ کئی دن اس سے ملاقات نہ کرتی تھی، کبھی سر درد کا بہانہ، کبھی پیٹ کی خرابی، جس کے متعلق ترلو چن کو اچھی طرح معلوم تھا کہ فولاد کی طرح سخت ہے اور کبھی خراب نہیں ہوسکتا۔جب اس سے ملاقات ہوتی ہے تو اس سے کہتی ہے، تم سکھ ہو۔۔۔۔۔یہ نازک باتیں تمہاری سمجھ میں نہیں آسکتیں۔

ترلوچن بھن جاتا اور پوچھتا کون سی نازک باتیں۔۔۔تمہارے پرانے یاروں کی؟

موذیل دونوں ہاتھ جوڑے چکلے کولہوں پر لٹکا کر اپنی تگڑی ٹانگیں چوڑی کر دیتی اور کہتی یہ تم مجھے ان کے طعنے کیا دیتے رہتےہو۔۔۔۔۔ہاں وہ میرے یار ہیں۔۔۔۔اور مجھے اچھے لگتے ہیں، تم جلتے ہو تو جلتے رہو۔

ترلو چن بڑے وکیلانہ انداز میں پوچھتا ہے اس طرح تمہاری میری کس طرح نبھے گی۔

موذیل زورکا قہقہہ لگاتی ہے، تم سچ مچ سکھ ہو۔۔۔۔ایڈیٹ تم سے کس نے کہا کہ میرے ساتھ نبھاؤ۔۔۔۔۔اگر نبھانے کی بات ہے تو جاؤ اپنے وطن میں کسی سکھنی سے شادی کر لو۔۔۔۔میرے ساتھ تو اسی طرح چلے گا۔

ترلو چن نرم ہو جاتا، دراصل موذیل اس کی زبردست کمزور ی بن گئی تھی، وہ ہر حالت میں اس کی قربت کا خواہشمند تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ موذیل کی وجہ سے اس کی اکثر توہین ہوتی تھی، معمولی کرسٹان لونڈوں کے سامنے جن کی حقیقت ہی نہیں تھی، اسے خفیف ہونا پڑتا تھا، مگر دل سے مجبو رہو کر یہ سب کچھ برداشت کرنے کا تہیہ کر لیا تھا۔

عام طور پر توہین اور ہتک کا رد عمل انتقام ہوتا ہے، مگر ترلو چن کے معاملے میں ایسا نہیں تھا، اس نے اپنے دل و دماغ کی بہت سے آنکھیں میچ لی تھی، اور کئی کانوں میں روئی ٹھونس لی تھی، اس کو موذیل پسند تھی۔۔۔۔ پسند ہی نہیں جیسا کہ وہ اپنے دوستوں سے کہا کرتا تھا گوڈے گوڈے اس کے عشق میں دھنس گیا تھا، اب اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا اس کے جسم کا جتنا حصہ باقی رہ گیا ہے وہ بھی اس عشق کے دلدل میں چلا جائے اور قصہ ختم ہو۔

دو برس تک وہ اسی طرح خوار ہوتا رہا، لیکن ثابت قدم رہا، آخر ایک روز جب کہ موذیل موج میں تھی، اپنے بازؤں میں سمیٹ کر پوچھا موذیل کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتی ہو۔موذیل اس کے بازؤں سے جدا ہوگئی اور کرسی پر بیٹھ کر اپنے فراک کا گھیرا دیکھنے لگی پھر اس نے اپنی موٹی موٹی یہودی آنکھیں اٹھائیں اور گھنی پلکیں چھپکا کر کہا، میں سکھ سے محبت نہیں کرسکتی ۔

ترلو چن نے ایسا محسوس کیا کہ پگڑی کے نیچے اس کے کیسوں میں کسی نے دہکتی ہوئی چنگاریاں رکھ دی ہیں، اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔۔۔موذیل تم ہمیشہ میرا مذاق اڑاتی ہو۔۔۔۔یہ میرا مذاق نہیں، میری محبت کا مذاق ہے۔

موذیل اٹھی اور اس نے بھورے ترشے ہوئے بالوں کو ایک دلفیرب جھٹکا دیا، تم شیو کرا لو اور اپنے سر کے بال کھلے چھوڑ دو۔۔۔تو میں شرط لگاسکتی ہو ں کہ کئ لونڈے تمہیں آنکھ ماریں گے۔۔۔۔تم خوبصورت ہو۔

ترلو چن کے کیسوں میں مزید چنگاریاں پڑ گئیں، اس نے آگے بڑھ کر زور سے موذیل کو اپنی طرف گھسٹیا اور اس کے عنابی ہونٹوں میں اپنے مونچھوں بھرے ہونٹ پیوست کردئیے۔

موذیل نے ایک دم پھوں پھوں کی اوراس کی گرفت سے علیحدہ ہوگئی، میں صبح اپنے دانتوں کو برش کرچکی ہوں، تم تکلیف نہ کرو۔

ترلوچن چلایا، موذیل۔

موذیل وینٹی بیگ سے ننھا سا آئینہ نکال کر اپنے ہونٹ دیکھنے لگی جس پر لگی ہوئی گاڑھی لپ اسٹک پر خراشیں آگئی تھیں، خدا قسم ۔۔۔تم اپنی داڑھی اور مونچھوں کا صیح استعمال نہیں کرسکتے ۔۔۔۔۔ان کے بال ایسے اچھے ہیں کہ میرا نیوی بلو اسکرٹ بہت اچھی طرح صاف کرسکتے ہیں،۔۔۔۔بس تھوڑا سا پیٹرول لگانے کی ضرورت ہوگی۔

ترلو چن غصے کی اس انتہا تک پہنچ چکا تھا، جہاں وہ بالکل ٹھنڈا ہوگیا تھا، آرام سے صوفے پر بیٹھ گیا، موذیل بھی آگئی اور اس نے ترلو چن کی داڑھی کھولنی شروع کردی۔۔۔۔اس میں جو پنیں لگی تھیں وہ اس نے ایک ایک کرکےاپنے دانتوں تلے دبالیں۔

ترلوچن خوبصورت تھا، جب اس کے داڑھی مونچھ نہیں اگی تھی تو واقعی لوگ اس کے کھلے گیسؤوں کے ساتھ دیکھ کر دھوکا کھاجاتے تھے، کہ وہ کوئی کم عمر خوبصورت لڑکی ہے۔مگر بالوں کے اس انبار نے اب اس کے تمام خدوخال جھاڑیوں کے مانند اندر چھپا لئے تھے، اس کو اس کا احساس تھا، مگر وہ ایک اطاعت شعار بردار لڑکا تھا، اس کے دل میں مذہب کا احترام تھا، وہ نہیں چاہتا تھا، کہ ان چیزوں کو اپنے وجود سے الگ کر دے، جن سے اس کے مذہب کی ظاہری تکمیل ہوتی تھی۔

جب داڑھی پوری کھل گئی اور اسکے سینے پر لٹکنے لگی تو اس نے موذیل سے پوچھا ، یہ تم کیا کر رہی ہو؟

دانتوں میں پنیں دبائے وہ مسکرائی،تمہارے بال بہت ملائم ہیں۔۔۔۔۔میرا اندازہ غلط تھا کہ ان سے میرا نیوی بلو اسکرٹ صاف ہوجائے گا تر لوچ تم یہ مجھے دے دو میں انہیں گوندھ کر اپنے لئے ایک فسٹ کلاس بٹوا بناؤں گئی۔

اب تو ترلو چن کی داڑھی میں چنگاریاں پھڑکنے لگیں، وہ بڑی سنجیدگی سے موذیل سے مخاطب ہوا، میں نے آج تک تمہارے مذہب کا مذاق اڑایا ہے تم کیوں اڑاتی ہو۔۔۔دیکھو کسی کے مذہبی جذبات سے کھیلنا اچھا نہیں ہوتا۔۔۔میں یہ کبھی برداشت نہ کرتا مگر صرف اس لئے کرتا ہوں کہ مجھے تم سے بے پناہ محبت ہے۔۔۔۔کیا تمہیں اس کا پتہ نہیں۔

موذیل نے ترلو چن کی داڑھی سے کھیلنا بند کردیا، معلوم ہے۔

پھرترلو چن نے اپنی داڑھی کے بال بڑی صفائی سے تہہ کئے اور موذیل کے دانتوں سے پنیں نکال لیں، تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میری محبت بکواس نہیں۔۔۔میں تم سےشادی کرنا چاہتا ہوں۔

مجھے معلوم ہے، بالوں کو ایک خفیف سا جھٹکا دے کر وہ اٹھی اور دیوار سے لٹکی ہوئی تصویر کی طرف دیکھنے لگی، میں بھی قریب یہی فیصلہ کرچکی ھو کہ تم سے شادی کروں گی۔

ترلو چن اچھل پڑا سچ؟

موذیل کے عنابی ہونٹ موٹی مسکراہٹ کے ساتھ کھلے اور اس کے سفید مخبوط دانت ایک لحظے کیلئے چمکے۔ہاں۔

ترلو چن نے اپنی نصف لپٹی ہوئی داڑھی ہی سے اس کو اپنے سینے کے ساتھ بھییچ لیا۔

تو تو کب؟

موذیل الگ ہٹ گئی ، جب۔۔۔۔۔تم اپنے بال کٹوا دو گے جب۔

ترلو چن اس وقت جو ہو سو ہو تھا، اس نے کچھ نہ سوچا اور کہہ دیا میں کل ہی کٹوادوں گا۔

موذیل فرش پر ٹیپ ڈانس کرنے لگی، تم بکواس کرتے ہو ترلوچ۔۔۔۔۔تم میں اتنی ہمت نہیں ہے۔

اس نے ترلو چن کے دل و دماغ سے مذہب کے رہے سہے خیال کو نکال باہر پھینکا، تم دیکھ لو گی۔

اور وہ تیزی سے آگے بڑھی ترلوچ کی مونچھوں کو چوما اور پھو پھوں کرتی باہر نکل گئی۔

ترلو چن نے رات بھر کیا سوچا۔۔۔وہ کن کن اذیتوں سے گزرا، اس کا تذکرہ فضول ہے اس لئے کہ دوسرے روز اس نے فورٹ میں اپنے کیس کٹوادئیے اور داڑھی بھی منڈوادی۔۔۔۔یہ سب کچھ ہوتا رہا اور وہ آنکھیں میچے رہا، جب سارا معاملہ صاف ہوگیا تو اس نے آنکھیں کھول لیں اور دیر تک اپنی شکل آئینے میں دیکھتا رہا، جس میں بمبئی کی حسین سے حسین لڑکی بھی کچھ دیر کیلئے غور کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔

ترلو چن وہی عجیب و غریب ٹھنڈک محسوس کرنے لگا تھا، جو سیلون سے باہر نکل کر اس کو لگی تھی، اس نے ٹیرس پر تیز تیز چلنا شروع کردیا، جہاں ٹینکوں اور نلوں کا ایک ہجوم تھا وہ چاہتا تھا کہ اس داستان کا بقایا حصہ اس کے دماغ میں نہ آئے مگر وہ بن نہ رہا۔

بال کٹوا کر وہ پہلے دن گھر سے باہر نہیں نکلا تھا، اس نے اپنے نوکر کے ہاتھ دوسرے روز چٹ موذیل کی بھیجی کہ اس کی طبعیت ناساز ہے تھوڑی دیر کیلئے آجائے، موذیل آئی ترلو چن کو بالوں کے بغیر دیکھ کر پہلے وہ ایک لحظے کیلئے ٹھٹکی پھر مائی ڈارلنگ ترلوچن کے صاف اور ملائم گالوں پر ہاتھ پھیرا اس کے چھوٹے انگریزی وضع کے کٹے ہوئے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کی اور عربی زبان مین نعرے مارتی رہی، اس نے اس قدر شور مچایا کہ اس کی ناک سے پانی بہنے لگا۔۔۔۔۔۔موذیل نے جب اسے محسوس کیا تو اپنی اسکرٹ کا گھیرا اٹھایا اور اسے پونچھنا شروع کردیا۔۔۔۔ ترلو چن شرما گیا، اس نے اسکرٹ نیچی کی اور سرزنش کے طور پراس سے کہا، نیچے کچھ پہن تو لیا کرو۔

موذیل پر اس کا کچھ اثر نہ ھوا، باسی اور جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئی لپ اسٹک لگے ہونٹوں سے مسکرا کر اس نے صرف اتنا ہی کہا مجھے بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے۔۔۔۔۔ ایسے ہی چلتا ہے۔

ترلوچن کو وہ پہلا دن یاد آگیا جب وہ موذیل دونوں ٹکرا گئے اور آپس میں عجیب طرح گڈ مڈ ہوگئے تھے، مسکرا کر اس نے موذیل کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا، شادی کل ہوگی؟

ضرور، موذیل نے ترلو چن کی ملائم تھوڑی پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیری۔

طے یہ ہوا کہ شادی پونے میں ہو، چونکہ سول میرج تھی، اس لئے ان کو دس پندرہ دن کا نوٹس دینا تھا، عدالتی کارروائی تھی، اس لئے مناسب یہی خیال کیا گیا کہ پونہ بہتر ہے، پاس ہے اور ترلو چن کے وہاں کئی دوست بھی ہیں، دوسرے روز انہیں پروگرام کے مطابق پونہ روانہ ہوجاتا تھا۔

موذیل فورٹ کے ایک اسٹور میں سیلز گرل تھی، اس سے کچھ فاصلے پر ٹیکسی اسٹینڈ تھا، بس یہیں موذیل نے اس کو انتظار کرنے کیلئے کہا تھا، ۔۔۔ترلوچن وقت مقررہ پر وہاں پہنچا، ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرتا رہا، مگر وہ نہ آئی، دوسرے روز اسے معلوم ہوا کہ وہ اپنے ایک پرانے دوست کے ساتھ جس نے تازہ تازہ موٹر خریدی ہے، دیولالی چلی گئی ہے اور ایک غیر معین عرصے کیلئے وہیں رہے گی۔

ترلوچن پر کیا گزری؟۔۔۔ایک بڑی لمبی کہانی ہے، قصہ مختصر یہ ہے کہ اس نے جی کڑاکیا اور اس کو بھول گیا۔۔۔۔ اتنے میں اس کی ملاقات کرپال کور سے ہوگئی اور وہ اس سے محبت کرنے لگا اور تھوڑے ہی عرصے میں اس نے محسوس کیا کہ موذیل بہت واہیات لڑکی تھی، جس کے دل کے ساتھ پتھر لگے ہوئے ہیں اور جو چڑوں کی مانند ایک جگہ سے دوسری جگہ پھدکتا رہتا تھا، اس احساس سے اسکو گونہ تسکین ہوئی تھی کہ وہ موذیل سے شادی کرنے کی غلطی نہ کر بیٹھا تھا۔لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی موذیل کی یاد میں ایک چٹکی کے مانند اس کے دل کو پکڑ لیتی تھی اور پھر چھوڑ کر کد کڑے لگاتی غائب ہوجاتی تھی۔

وہ بے حیا تھی۔۔۔۔۔بے مروت تھی، اس کو کسی کے جذبات کا پاس نہیں تھا ترلو چن کو پسند تھی، اس لئے کبھی کبھی اس کے متعلق سوچنے پر مجبور ہوجاتا تھا، کہ وہ دیولالی میں اتنے عرصے سے کیا کر رہی ہے،، اس آدمی کے ساتھ ہے جس نے نئی نئی کار خریدی تھی، یا اسے چھوڑ کر کسی اور کے پاس چلی گئی ہے، اس کو اس خیال سے سخت کوفت ہوتی تھی کہ وہ اس کے سوا کسی اور کے پاس ہوگی، حالانکہ اس کو موذیل کے کردار کا بخوبی علم تھا۔

وہ اس پر سینکڑوں نہیں ہزاروں روپے خرچ کر چکا تھا، لیکن اپنی مرضی سے، ورنہ موذیل مہنگی نہیں تھی، اس کو بہت سسی قسم کی چیزیں پسند آتی تھی، ایک مرتبہ ترلو چن نے اسے سونے کی ٹوپس دینے کا ارادہ کیا جو اسے بہت پسند تھے مگر اسی دکان میں موذیل جھوٹے اور بھڑکیلے اور بہت سستے آویزوں پر مرمٹی اور سونے کے ٹوپس چھوڑ کر ترلو چن سے منتیں کرنے لگی کہ وہ انہیں خرید دے۔

ترلو چن اب تک نہ سمجھ سکا کہ موذیل کس قماش کی لڑکی ہے، کس آب و گل سے بنی ہے، وہ گھنٹوں اس کے ساتھ لیٹی رہتی تھی اور اس کو چومنے کی اجازت دیتی تھی، وہ سارا کا سارا صابن کی مانند اس کے جسم پر پھر جاتا تھا، مگر وہ اسکو اس سے آگے ایک انچ نہ بڑھنے دیتی تھی، اس کو چرانے کی خاطر اتنا کہہ دیتی کہ تم سکھ ہو۔۔۔۔مجھے تم سے نفرت ہے۔

ترلو چن اچھی طرح محسوس کرتا تھا، کہ موذیل کو اس سے نفرت نہیں ہے،اگر ایسا ہوتا تو وہ اس سے کبھی نہ ملتی، برداشت کا مادہ اس میں رتی بھر نہیں تھا، وہ کبھی کبھار دو برس تک اس کی صحبت میں نہ گزارتی، دو ٹک فیصلہ کردیتی، انڈروئیر اس کو ناپسند تھے اس لئے کہ ان سے اس کو الجھن ہوتی تھی، ترلو چن نے کئی بار اسکو ان کی اشد ضرورت سے آگاہ کیا، اسکو شرم و حیا کا واسطہ دیا، مگر اس اس نے یہ چیز کبھی نہ پہنی۔

ترلو چن جب اس سے حیا کی بات کرتا تھا تو وہ چڑ جاتی تھی، یہ حیا ویا کیا بکواس ہے۔۔۔اگر تمہیں اس کا کچھ خیال ہے تو آنکھیں بند کرلیا کرو۔۔۔۔تم مجھے یہ بتاؤ کہ کون سا لباس ہے جس میں آدمی ننگا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔یا جس میں سے تمہاری نگاہیں پار نہیں ہوسکتیں۔۔۔۔۔۔مجھ سے ایسی بکواس نہ کیا کرو۔۔۔۔۔تم سکھ ہو۔۔۔۔۔مجھے معلوم ہے کہ تم پتلون کے نیچے ایک سلی انڈروئیر پہنتے ہو جو نیکر سے ملتاجلتا ہے۔۔۔۔۔۔یہ بھی تمہاری داڑھی اور سر کے بالوں کی طرح تمہارے مذہب میں شامل ہے۔۔۔۔۔شرم آنی چاہئیے۔۔۔۔۔۔اتنے بڑے ہوگئے اور ابھی تک یہی سمجھتے ہو کہ تمہارا مذہب انڈروئیر میں چھپا بیٹھا ہے۔

ترلو چن کو شروع شروع میں ایسی باتیں سن کر غصہ آیا تھا مگر بعد میں غور و فکر کرنے پر وہ کبھی کبھی لڑھک جاتا تھا اور سوچتا تھا کہ موذیل کی باتیں شاید نادرست نہیں اور جب اس نے اپنے کیسوں اور داڑھی کا صفایا کرادیا تھا تو اسے قطعی طور پر ایسا محسوس ہوا کہ وہ بیکار اتنے دن بالوں کا بوجھ اٹھائے پھرا جس کا کچھ مطلب نہیں تھا۔

پانی کی ٹنکی کے پاس پہنچ کر ترلو چن رک گیا، موذیل کو ایک بڑی موٹی گالی دے کر اس نے اس کے متعلق سوچنا بند کردیا،۔۔۔کرپال کور، ایک پاکیزہ لڑکی جس سے اس کو محبت ہوئی تھی، خطرے میں تھی، وہ ایسے محلے میں تھی، جس میں کٹر قسم کے مسلمان رہتے تھے اور وہاں دو تین وارداتیں بھی ہوچکیں تھیں۔۔۔۔۔لیکن مصیبت یہ تھی کہ اس محلے میں اڑتالیس گھنٹے کا کرفیو تھا، مگر اڑتالیس گھنٹے کے کرفیو کی کون پروا کرتا ہے، اس چالی کے مسلمان اگر چاہتے تو اندر ہی اندر کرپال کا، اس کی ماں کا، اس کے باپ کا بڑی آسانی کے ساتھ صفایا کرسکتے تھے۔

ترلو چن سوچتا سوچتا پانی کے موٹے نل پر بیٹھ گیا، اس کےسر کے بال اب کافی لمبے ہو گئے تھے، اس کو یقین تھا کہ ایک برس کے اندر اندر یہ پورے کیسیوں میں تبدیل ہو جائیں گے، اس کی داڑھی تیزی سے بڑھی تھی مگر اسے بڑھانا نہیں چاہتا تھا، فورٹ میں ایک باربر تھا، وہ اس صفائی سے اسے تراشتا تھا، کہ ترشی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔۔۔۔

اس نے اپنے لمبے اور ملائم بالوں میں انگلیاں پھیریں اور ایک سرد آہ بھری۔۔۔اٹھنے کا ارادہ کرہی رہا تھا۔۔۔ کہ اسے کھڑاؤں کی کرخت آواز سنائی دی، اس نے سوچا کون ہو سکتا ہے؟۔۔بلڈنگ میں کئی یہودی عورتیں تھیں، جو کہ سب کھڑاؤں پہنتی تھیں۔۔۔۔۔۔آواز قریب آتی گئی، یک لخت اس نے دوسری ٹنکی کے پاس موذیل کو دیکھا۔جو یہودیوں کی خاص قطع کا ڈھیلا ڈھالا کرتہ پہنے بڑے زور کی انگڑائی لے رہی تھی۔۔۔۔۔اس زور کی کہ ترلو چن کو محسوس ہوا کہ آس پاس کی ہوا چٹخ جائے گی۔

ترلو چن پانی کے نل پر سے اٹھا، اس نے سوچا یہ ایکاایک کہاں سے نمودار ہوگئی۔۔۔۔اور اس وقت ٹیرس پر کیا کرنے آئی ہے؟

موذیل نے ایک اور انگڑائی لی۔۔۔۔۔۔۔اب ترلو چن کی ہڈیاں چٹخنے لگیں۔

ڈھیلے ڈھالے کرتے میں اس کی مضبوط چھاتیاں دھڑکیں۔۔۔۔۔۔۔ترلو چن کی آنکھوں کے سامنے کئ گول گول اور چپٹے چپٹے نیل ابھر آئے، وہ زور سے کھانسا ، موذیل نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا، اس کا رد عمل بالکل خفیف تھا، کھڑاؤں گھسٹتی وہ اس کے پاس آئی اور اس کی نھنی منی داڑھی دیکھنے لگی، تم پھر سکھ بن گئے تر لو چ؟

داڑھی کے بال ترلوچن کو چبھنے لگے۔

موذیل نے آگے بڑھ کر اس کی ٹھوڑی کے ساتھ اپنے ہاتھ کی پشت رگڑی اور مسکرا کر کہا، اب یہ برش اس قابل ہے کہ میری نیوی بلو اسکرٹ صاف کرسکے۔۔۔مگر وہ تو وہیں دیوالالی میں رہ گئی ہے۔

ترلوچ خاموش رہا۔

موذیل نے اس کے بازو کی چٹکی لی بولتے کیوں نہیں سردار صاحب؟

ترلوچن اپنی پچھلی بے وقوفیوں کا اعادہ نہیں کرنا چاہتا تھا، تاہم اس نے صبح کے ہلکے اندھیرے میں موذیل کے چہرے کو غور سے دیکھا۔۔۔۔کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی، ایک طرح وہ پہلے سے کچھ کمزور نظر آتی تھی، ترلوچن نے اس سے پوچھا، بیمار رہی ہو؟

نہیں موذیل نے اپنے تراشے ہوئے بالوں کو ایک خفیف سا جھٹکا دیا۔

پہلے سے کمزور دکھائی دیتی ہو؟

میں ڈائیٹنگ کر رہی ہوں، موذیل پانی کے موٹے نل پر بیٹھ گئی اور کھڑاؤں فرش کے ساتھ بجانے لگی، تم گویا کہ ۔۔۔۔اب پھر۔۔۔نئے سرے سے سکھ بن رہے ہو۔

ترلو چن نے کسی قدر ڈھٹائی کے ساتھ کہا، ہاں۔

مبارک ہو موذیل نے ایک کھڑاؤں پیر سے اتار لی اور پانی کے تل پر بجانے لگی کسی اور لڑکی سے محبت کرنی شروع کردی۔

ترلو چن نے آسہتہ سے کہا، ہاں۔

مبارک ہو۔۔۔۔اسی بلڈنگ کی ہے کوئی؟

نہیں۔

یہ بہت بری بات ہے، موذیل کھڑاؤں اپنی انگلیوں میں اڑس کر اٹھی، ہمیشہ آدمی کو اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنا چاہئیے۔

ترلو چن خاموش رہا، موذیل نے اڑھ کر اس کی داڑھی کو اپنی پانچوں انگلیوں سے چیرا، کیا اس لڑکی نے تم کو بال بڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔

نہیں۔

ترلو چن بڑی الجھن محسوس کررہا تھا، کنگھا کرتے کرتے اس کی داڑھی کے بال آپس میں الجھ گئے ہیں، جب اس نے نہیں کہا تو اس کے لہجے میں تیکھا پن تھا۔

موذیل کے ہونٹوں پر لپ اسٹک باسی گوشت کی طرح معلوم ہوتی تھی، وہ مسکرائی تو ترلو چن نے ایسا محسوس کیا کہ اس کہ گاؤں میں جھٹکے کی دکان پر قصائی نے چھری سے موٹی رگ کے گوشت کے دو ٹکڑے کر دئیے۔

مسکرانے کے بعد وہ ہنسی، تم اب یہ داڑھی منڈا ڈالو تو کسی کی بھی قسم لے لو، میں تم سے شادی کر لوں گی۔

ترلو چن کے جی میں آیا کہ اس سے کہے کہ وہ ایک بڑی شریف، باعصمت اور پاک طنیت کنواری لڑکی سے محبت کر رہا ہے، اور اسی سے شادی کرے گا۔۔۔۔۔موذیل اس کے مقابلے میں فاحشہ ہے، بد صورت ہے، بے وقوف ہے، بے مروت ہے، مگر وہ اس قسم کا گھٹیا آدمی نہیں تھا، اس نے موذیل سے صرف اتنا کہا، موذیل میں اپنی شادی کا فیصلہ کر چکا ہوں، میرے گاؤں کی ایک سیدھی سادی لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔جو مذہب کی پابند ہے، اسی لئے میں نے بال بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

موذیل سوچ بچار کی عادی نہیں تھی، لیکن اس نے کچھ دیر سوچا اور کھڑاؤں پر نصف دائرے میں گھوم کر ترلو چن سے کہا، وہ مذہب کی پابند ہے تو تمہیں کیسے قبول کرے گی کیا اسے معلوم نہیں کہ تم ایک دفعہ اپنے بال کٹوا چکےہو؟

اس کو ابھی تک معلوم نہیں۔۔۔۔۔داڑھی میں نے تمہارے دیولالی جانے کے بعد ہی بڑھانی شروع کردی تھی۔۔۔۔۔محض انتقامی طور پر۔۔۔۔۔۔اس کے بعد میری کرپال کور سے ملاقات ہوئی مگر میں پگڑی اس طریقے سے باندھتا ھوں کہ سو میں سے ایک ہی آدمی مشکل سے جان سکتا ہے کہ میرے کیس کٹے ہوئے ہیں۔

مگر اب یہ بہت جلد ٹھیک ہوجائیں گے، ترلو چن نے اپنے لمبے ملائم بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرنا شروع کردی۔

موذیل نے لمبا کرتا اٹھاکر اپنی گوری گوری دبیز ران کھجانی شرو ع کردی، یہ بہت اچھا ہے۔۔۔۔مگر یہ کمبخت مچھر یہاں بھی موجود ہیں۔۔۔۔دیکھا کس زور سے کاٹا ہے۔

ترلو چن نے دوسری طرف دیکھنا شروع کردیا، موذیل نے اس جگہ جہاں مچھر نے کاٹا تھا انگلی سے لب لگائی اور کرتہ چھوڑ کر سیدھی کھڑی ہوگئی، کب ہو رہی ہے تمہاری شادی؟

ابھی کچھ نہیں یہ کہہ کر تو لو چن سخت متفکر ہوگیا۔

چند لمحات کی خاموشی رہی، اس کے بعد موذیل نے اس کے نفکر کا اندازہ لگا کر اس سے بڑے سنجیدہ اندازمیں پوچھا،ترلو چن۔۔۔۔تم کیا سوچ رہے ہو؟

ترلو چن کو اس وقت کسی ہمدرد کی ضرورت تھی، خواہ وہ موذیل ہی کیوں نہ ہو، چناچہ اس نے اس کو سارا ماجرا سنادیا، موذیل ہنسی، تم اول نمبر کے ایڈیٹ ہو۔۔۔۔جاؤ اس کو لے آؤ، ایسی کیا مشکل ہے۔

مشکل۔۔۔۔موذیل تم اس معاملے کی نزاکت کو کبھی نہیں سمجھ سکتیں۔۔۔۔کسی بھی معاملے کی نزاکت۔۔۔۔۔۔تم ایک لابالی قسم کی لڑکی ہو۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ تمہارے اور میرے تعلقات قائم نہیں رہ سکے،جس کا مجھے ساری عمر افسوس رہےگا۔

موذیل نے زور سے اپنی کھڑاؤں پانی کے نل کے ساتھ ماری، افسوس ایڈیٹ۔۔۔تم سے سوچو کہ تمہاری اس۔۔۔۔کیا نام ہے اس کا۔۔۔۔اس حملے سے بچا کر لانا کیسے ہے۔۔۔تم بیٹھ گئے ہوتعلقات کا رونا رونے۔۔۔۔تمہارے میرے تعلقات قائم نہیں رہ سکے۔۔۔۔۔تم ایک سلی قسم کے آدمی ہو۔۔۔۔اور بہت ڈرپوک، مجھے نڈر مرد چاہئیے۔۔۔۔۔لیکن چھوڑ ان باتوں کو۔۔۔۔۔چلو آؤ تمہاری اس کور کو لے آئیں۔

اس نے ترلو چن کا بازو پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔ترلو چن نے گھبراہٹ میں اس سے پوچھا کہاں سے؟

وہیں سے جہاں وہ ہے۔۔۔۔۔میں اس محلے کی ایک ایک اینٹ کو جانتی ہوں، چلو آؤ میرے ساتھ۔

سنو تو۔۔۔کر فیو ہے۔

موذیل کیلئے نہیں۔۔۔۔چلو آؤ۔

وہ ترلو چن کو بازوسے پکڑ کر کھینچتی اس دروازے تک لے گئی ہے جو نیچے سیڑھیوں کی طرف کھلتا تھا،دروازہ کھول کر وہ اتر نےوالی تھی کہ رک گئی اور ترلو چن کی داڑھی کی طرف دیکھنے لگی۔

ترلو چن نے پوچھا کیا بات ہے؟

موذیل نے کہا یہ تمہاری داڑھی۔۔۔۔۔لیکن خیر ٹھیک ہے، اتنی بڑی نہیں ہے ۔۔۔۔ ۔ ننگے سر چلو تو کوئی نہیں سمجھے گا کہ تم سکھ ہو۔

موذیل نےبڑے معصوم انداز میں پوچھا،کیوں؟

ترلو چن نے اپنے بالوں کی ایک لٹ ٹھیک کی، تم سمجھتی نہیں ہو، میرا وہاں پگڑی کے بغیر جانا ٹھیک نہیں ہے۔

کیوں ٹھیک نہیں ہے۔

تم سمجھتی کیوں نہیں ہو کہ اس نے مجھے ابھی تک ننگے سر نہیں دیکھا۔۔۔۔وہ یہی سمجھتی ہے کہ میرے کیس ہیں، میں اس پر یہ راز افشاں نہیں کرنا چاہتا۔

موذیل نے زور سے اپنی کھڑاؤں دروازے کی دہلیز پر ماری، تم واقعی اول درجے کے ایڈیٹ ہو۔۔۔۔۔گدھے کہیں کے۔۔۔۔۔اس کی جان کا سوال ہے۔۔۔۔۔کیا نام ہے ۔۔۔۔ تمہاری اس کور کا، جس سے تم محبت کرتے ہو۔

ترلو چن نے اسے سمجھانے کی کوشش کی، موذیل وہ بڑی مذہبی قسم کی لڑکی ہے ۔۔۔۔۔۔اگر اس نے مجھے ننگے سر دیکھ لیا تو مجھ سےنفرت کرنے لگے گی۔

موذیل چڑھ گئی، اوھ تمہاری محبت ۔۔۔۔میں پوچھتی ہوں کیا سارے سکھ تمہاری طرح کے بیوقوف ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔اس کی جان کا خطرہ ہے اور تم کہتے ہو کہ پگڑی ضرور پہنو گے۔۔۔۔اور شاید وہ اپنا انڈروئیر بھی جو نیکر سے ملتا جلتا ہے۔

ترلو چن نے کہا وہ تو میں ہر وقت پہنتا ہوں۔

بہت اچھا ہے کرتے ہو۔۔۔مگر اب تم یہ سوچو کہ معاملہ اس محلے کا ہے جہاں میاں بھائی رہتے ہیں، اور وہ بھی بڑے بڑے داد اور بڑے بڑے موالی۔۔۔تم پگڑی پہن کر گئے تو وہیں ذبح کر دئیے جاؤ گے۔

ترلو چن نے مختصر سا جواب دیا، مجھے اس کی پرواہ نہیں۔۔۔۔اگر میں تمہارے ساتھ وہاں جاؤں گا تو پگڑی پہن کر جاؤں گا۔۔۔۔میں اپنی محبت خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔

موذیل جھنجلا گئی، اسی روز سے اس نے پیچ و تاب کھائے کہ اس کی چھاتیاں آپس میں بھڑ بھڑ گئیں، گدھے۔۔۔۔۔تمہاری محبت ہی کہاں رہے گی، جب تم نہ رہو گے۔۔۔۔تمہاری وہ ۔۔۔کیا نام ہے اس بھڑوی کا۔۔۔۔جب وہ بھی نہ رہےگی، اس کا خاندان تک نہ رہے گا۔۔۔تم سکھ ہو۔۔۔۔خدا کی قسم تم سکھ ہو اور بڑے ایڈیٹ سکھ ہو۔

ترلو چن بھنا گیابکواس نہ کرو۔

موذیل زور سے ہنسی، مہین مہین بالوں کے غبار سے اٹی ہوئی بانہیں اس نے ترلو چن کے گلے میں ڈال دیں اور تھوڑا سا جھول کر کہا، ڈارلنگ چلو، جیسے تمہاری مرضی۔۔۔۔جاؤ پگڑی پہن آؤ، میں نیچے بازار میں کھڑی ہوں۔

یہ کہہ کر وہ نیچے جانے لگی ترلو چن نے اسے روکا تم کپڑے نہیں پہنو گی، موذیل نے اپنے سر کو جھکا کر کہا، نہیں۔۔۔۔۔چلے گا اسی طرح۔

یہ کہہ کر وہ کھٹ کھٹ کرتی نیچے اتر گئی، ترلو چن نچلی منزل کی سیڑھیوں پر بھیاس کی کھڑاؤں کی چوبی آواز سنتا رہا، پھر اس نے اپنے لمبے لمبے بال انگلیوں سے پیچھے کی طرف سمیٹے اور نیچے اتر کر اپنے فلیٹ میں چلا گیا، جلدی جلدی اس نے کپڑے تبدیل کئے پگڑی بندھی بندھائی رکھی تھی، اسے اچھی طرح سر پر جمایا اور فلیٹ کا دروازہ متفل کرکےنیچے اتر گیا۔باہر فٹ پاتھ پر موذیل اپنی تگڑی ٹانگیں چوڑی کئے سگریٹ پی رہی تھی، بالکل مردانہ انداز میں جب ترلوچن اس کے نزدیک پہنچا تو اس نے شرات کے طور پر منہ بھر کے دھواں اس کے چہرے پر دے مارا، ترلو چن نے غصے میں کہا تم بہت ذلیل ہو۔

موذیل مسکرائی، یہ تم نے کوئی نئی بات نہیں کی۔۔۔۔۔اس سے پہلے اور کئ مجھے ذلیل کہہ چکے ہیں، پھر اس نے ترلو چن کی پگڑی کی طرف دیکھا یہ پگڑی تم نے واقعی بہت اچھی طرح باندھی ہے۔۔۔۔۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تمہارے کیس ہیں۔

بازار بالکل سنسان تھا۔۔۔۔ایک طرف ہوا چل رہی ہو، اور وہ بھی بھی دھیرے دھیرے جیسے کرفیو سے خوفزدہ ہے، بتیاں روشن تھیں، مگر ان کی روشنی بیمار سی معلوم ہوتی تھی، عام طور پر اس وقت ٹریمیں چلنی شروع ہوجاتی تھیں، اور لوگوں کی آمد و رفت بھی جاری ہوجاتی تھی، اچھی خاصی گہما گہمی ہوتی تھی، پر اب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سڑک پر کوئی انسان گزرا ہے نہ گزرے گا۔

موذیل آگے آگے تھی، فٹ پاتھ کے پتھروں پر اس کی کھڑاؤں کھٹ کھٹ کر رہی تھیں، یہ آواز، اس خاموش فضا میں ایک بہت بڑا شور تھی ترلو چن دل ہی دل میں موذیل کو برا بھلا کہہ رہا تھا، کہ دو منٹ میں اور کچھ نہیں تو اپنی واہیات کھڑاؤں چھوڑ کر کوئی اور دوسری چیز پہن سکتی تھی، اس نے سوچا کہ موذیل سے کہے، کھڑاؤں اتار دو اور ننگے پاؤں چلو، مگر اس کو یقین تھا کہ وہ کبھی نہیں مانے گی، اس لئے خاموش رہا۔

ترلو چن سخت خوفزدہ تھا، کوئی پتاکھڑکتا تو اس کا دل دھک سے رہ جاتا تھا، مگر موذیل بالکل بے خوف چلی جارہی تھی، سگریٹ کا دھواں اڑاتی جسیے وہ بے فکری سے چہل قدمی کر رہی ہے۔

چوک میں پہنچے تو پولیس مین کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔اے کدھر جار ہےہو۔

ترلو چن سہم گیا، موذیل آگے بڑھی اور پولیس مین کے پاس پہنچ گئ اور بالوں کو ایک خفیف جھٹکا دیا اور کہا کہ وہ تم۔۔۔۔ہم کو پہچانا نہیں۔

موذیل ۔۔۔۔۔پھر اس نےایک گلی کی طرف اشارہ کیا، ادھر اس باجو ۔۔۔۔۔ہمارا بہن رہتا ہے، اس کی طبعیت خراب ہے۔۔۔۔۔ڈاکڑ لےکر جارہا ہے۔

سپاہی اسےپہچاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس نے خدا معلوم کہاں سے سگریٹ کی ڈبیہ نکالی اور ایک سگریٹ نکال کر اس کو دیا۔ لو پیو۔سپاہی نے سگریٹ لے لیا، موذیل نے اپنے منہ سے سلگا ہوا سگریٹ نکالا اور اس سے کہا، بئیر از لائٹ۔

سپاہی نے سگریٹ کا کش لیا، موذیل نے داہنی آنکھ اس کو اور بائیں آنکھ ترلو چن کو ماری اور کھٹ کھٹ کرتی اس گلی کی طرف چل دی۔۔۔جس میں سے گزر کر انہیں۔۔۔۔محلے جانا تھا۔

ترلوچن خاموش تھا، مگر وہ محسوس کررہا تھا، کہ موذیل کرفیو کی خلاف ورزی کرکے عجیب و غریب قسم کی مسرت محسوس ہو رہی تھی، خطروں سے کھیلنا اسے پسند تھا، وہ جب جو ہو پر اس کے ساتھ جاتی تھی، تو اس کے لئے مصیبت بن جاتی ہے، سمندر کی پیل تن لہروں سے ٹکراتی، بھٹرتی وہ دور تک نکل جاتی تھی اور اس کو ہمیشہ اس بات کا دھڑکا رہتا تھا کہ کہیں وہ ڈوب نہ جائے، جب واپس آتی تو اس کا جسم نیلوں اور زخموں سے بھرا ہوتا تھا مگر اسے ان کی کوئی پروہ نہیں ہوتی تھی۔

موذیل آگے آگے تھی ترلو چن اس کے پیچھے پیچھے، ڈر ڈرکے ادھر ادھر دیکھتا رہتا تھا کہ اس کی بغل میں سےکوئی چھری مار نمودار نہ ہوجائے، موذیل رک گئی جب ترلو چن پاس آیا تو اس نے سمجھانے کے انداز میں اس سے کہا ترلوچ ڈئیر۔۔۔۔۔اس طرح ڈرنا اچھا نہیں۔۔۔۔تم ڈرو گے تو ضرور کچھ نہ کچھ ہو کے رہے گا۔۔۔۔۔۔۔سچ کہتی ہو، یہ میری آزمائی ہوئی بات ہے۔

ترلو چن خاموش رہا۔

جب وہ گلی طے کرکے دوسری گلی میں پہنچے جو اس محلے کی طرف نکلتی تھی جس میں کرپال کور رہتی تھی۔۔۔۔۔تو موذیل چلتے چلتے ایک دم رک گئی، کچھ فاصلے پر بڑے اطمینان سے ایک مارواڑی کی دکان لوٹی جارہی تھی، ایک لحظے کیلئے اس نے اس معاملے کا جائزہ لیا اور ترلو چن سے کہا، کوئی بات نہیں۔۔۔۔چلو آؤ۔

دونوں چلنے لگے۔۔۔۔۔ایک آدمی جو سر پر بہت بڑی پرات اٹھائے چلا آرہا تھام ترلو چن سے ٹکرا گیا، اس آدمی نے غور سے ترلو چن کی طرف دیکھا، صاف معلوم ہوتا تھا، کہ وہ سکھ ہے، اس آدمی نے جلدی سے اپنے نیفے میں ہاتھ ڈالا، کہ موذیل آگئی، لڑکھڑاتی ہوئی جیسے نشے میں چور ہے، اس نے زورسے اس آدمی کو دھکا دیا اور مخمور لہجے میں کہا، اے کیا کرتا ہے۔۔۔۔۔ اپنے بھائی کو مارتا ہے۔۔۔۔۔۔ہم اس سےشادی بنانے کو مانگتا ہے۔۔۔۔۔پھر وہ تر لو چن سے مخاطب ہوئی کریم۔۔اٹھاؤ، پرات اور رکھ دو اس کے سر پر۔

اس آدمی نے نے نیفے سے ہاتھ نکال لیا اور شہوانی آنکھوں سے موذیل کی طرف دیکھا، پھر آگے بڑھ کر اپنی کہنی سے اس کی چھاتیوں میں ایک ٹہو کا دیا عیش کر سالی۔۔۔۔۔عیش کر پھر اس نےپرات اٹھایا اور یہ جا وہ جا۔

تر لو چن بڑبڑایا کیسی ذلیل حرکت ہے، حرامزادے کی۔

موذیل نے اپنی چھاتیوں پر ہاتھ پھیرا کوئی ذلیل حرکت نہیں۔۔۔۔سب چلتا ہے۔۔۔۔آؤ۔

اور تیز تیز چلنے لگی۔۔۔۔ترلو چن نے بھی قدم تیز کردئیے۔

یہ گلی طےکرنے کے بعد دونوں اس محلے میں پہنچ گئے، جہاں کرپال کور رہتی تھی، موذیل نے پوچھا کس گلی میں جانا ہے؟

تر لو چن نے آہستہ سے کہا، تیسری گلی میں۔۔۔۔نکڑ والی بلڈنگ۔

موذیل نے اس طرف چلنا شروع کر دیا، یہ راستہ بالکل خاموش تھا، آس پاس اتنی گنجان آبادی تھی مگر کسی بچے کی رونے کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔

جب وہ اس گلی کے قریب پہنچے تو کچھ گڑ بڑ دکھائی دی۔۔۔۔ایک آدمی بڑی تیزی سے اس کنارےوالی بلڈنگ سے نکلا اور دوسرے کنارے والی بلڈنگ میں گھس گیا، اس بلڈنگ سے تھوڑی دیر بعد تین آدمی نکلے، فٹ پاتھ پر انہوں نے ادھر ادھر دیکھا اور بڑی پھرتی سے دوسری بلڈنگ میں چلے گئے، موذیل ٹھٹک گئی، اس نے ترلو چن کو اشارہ کیا کہ اندھیرے میں ہو جائے، پھر اس نے ہولے سے کہا ترلو چن ڈئیر۔۔۔۔یہ پگڑی اتار دو۔

ترلو چن نے جواب دیا میں یہ کسی صورت بھی نہیں اتارسکتا۔

موذیل جھنجلا گئی، تمہاری مرضی۔۔۔لیکن تم دیکھتے نہیں سامنے کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔ سامنے جو کچھ ہو رہا ہے تھا دونوں کی آنکھوں کے سامنے تھا۔۔۔۔۔صاف گڑ بڑ ہو رہی تھی اور بڑی پراسرار قسم کی، دائیں ہاتھ کی بلڈنگ سے جب دو آدمی پیٹھ پربوریاں اٹھائے نکلے ہیں۔

بوریاں اٹھائے نکلے تو موذیل ساری کی ساری کانپ گئی، ان میں سے کچھ گاڑھی گاڑھی سیال سی چیز ٹپک رہی تھی، موذیل اپنے ہونٹ کاٹنے لگی غالباًا وہ سوچ رہی تھی، جب یہ دونوں آدمی گلی کے دوسرے سرے پر پہنچ کر غائب ہوگئے، تو اس نے ترلوچن سے کہا۔

دیکھو ایسا کرو۔۔۔۔۔میں بھاگ کر نکڑ والی بلڈنگ میں جاتی ہوں۔۔۔۔تم میرے پیچھے آنا۔۔۔۔۔بڑی تیزی سے جیسے تم میرا پیچھا کر رہے ہو۔۔۔سمجھے ۔۔۔مگر یہ اب ایک دم جلدی جلدی میں ہو۔

موذیل نے ترلوچن کے جواب کا انتظار کیا اور نکڑ والی بلڈنگ کی طرف کھڑاؤں کھٹکھٹاتی بڑی تیزی سے بھاگی،ترلو چن بھی اس کے پیچھے دوڑا، چند لمحوں میں وہ بلڈنگ کے اندر تھے۔۔۔۔۔ سیڑھیوں کے پاس ۔۔۔ ترلو چن ہانپ رہا تھا، مگر موذیل بالکل ٹھیک ٹھاک تھی، اس نے ترلوچن سے پوچھا کون سا مالا؟

ترلو چن نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری، دوسرا۔

چلو۔

یہ کہہ کر کھٹ کھٹ سیڑھیاں چڑھنے لگی، تو تر لو چن اس کے پیچھے ہولیا، زینوں پر خون کے بڑے بڑے دھبے پڑے تھے، ان کو دیکھ دیکھ کر اس کا خون خشک ہو رہا تھا۔

دوسرے مالے پر پہنچے تو کوری ڈور میں کچھ دور جا کر ترلو چن نے ہولے سے ایک دروازے پر دستک دی، موذیل دو سیڑھیوں کے پاس کھڑی رہی۔

ترلو چن نے ایک بار پھر دستک دی اور دروازے کے ساتھ منہ لگا کر آواز دی۔

مہنگا سنگھ جی۔۔۔۔۔۔مہنگا سنگھ جی؟

اندر سے مہین آواز آئی۔کون؟

ترلوچن

دروازہ دھیرے سے کھلا۔۔۔۔ترلو چن نے موذیل کو اشارہ کیا، وہ لپک کر آئی دونوں اندر داخل ہوئے۔۔۔۔موذیل نے اپنی بغل میں ایک پتلی لڑکی کو دیکھا۔۔۔۔جو بے حد سہمی ہوئی تھی، موذیل نے اس کو ایک لحظے کیلئے غور سے دیکھا، پتلے پتلے نقش تھے، ناک بہت ہی پیاری تھی مگر زکام میں مبتلا، موذیل نے اس کو اپنے چوڑے چکلے سینے کے ساتھ لگا لیا اور اپنے ڈھیلے ڈھالے کرتے کا دامن اٹھا کر اس کی ناک پونچھی۔

ترلو چن سرخ ہوگیا۔

موذیل نے کرپال کور سے بڑے پیارکے ساتھ کہا، ڈرو نہیں ترلوچن تمہیں لینے آیا ہے۔

کرپال کور نے ترلوچن کی طرف اپنی سہمی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور موذیل سے الگ ہوئی۔

ترلو چن نے اس سے کہا سردار صاحب سے کہو کہ جلدی تیار ہوجائیں۔۔۔۔اور ماتا جی سے بھی۔۔۔۔لیکن جلدی۔

اتنے میں اوپر کی منزل پر بلدن آوازیں آنے گلیں جیسے کوئی چیخ رہا ہو اور دھینگا مشتی ہو رہی ہو۔

کرپال کور کے حلق سے دبی دبی چیخ نکلی، اسے پکڑ لیا انہوں نے۔

ترلو چن نے پوچھا کسے؟

کرپال کور نے جواب دینے والی تھی کہ موذیل نے اس کو بازو سے پکڑا اور گھسیٹ کر ایک کونے میں لے گئی، پکڑ لیا تو اچھا ہوا۔۔۔۔۔۔تم یہ کپڑے اتارو۔

کرپال کور کو ابھی سوچنے بھی نہ پائی تھی کہ موذیل نے آنا فانا اس کی قمیض اتار کر ایک طرف رکھ دی ، کرپال کورنے اپنی بانہوں میں اپنے ننگے جسم کو چھپالیا اور وحشت زدہ ہوگئی، ترلو چن نے منہ دوسری طرف موڑلیا، موزیل نے اپنا ڈھیلا ڈھالا کرتہ اتار اور اس کو پہنا دیا، خود وہ ننگ دہڑنگ تھی، جلدی جلدی اس نے کرپال کور کا آزار بند ڈھیلا کی اور اس کی شلوار اتارکر، ترلو چن سے کہنے لگی، جاؤ اسے لے جاؤ،لیکن ٹھہرو۔

یہ کہہ کر اس نے کرپال کور کے بال کھول دئیے ، اس سے کہا جاؤ۔۔جلدی۔۔نکل جاؤ۔۔

ترلو چن نے اس سے کہا آؤ مگر فورا ہی رک گیا، پلٹ کر اس نے موذیل کی طرف دیکھا جو دھوئے دیدے کی طرح ننگی کھڑی تھی اس کی بانہوں پر مہین مہین بال سردی کے باعث جاگے ہوئے تھے۔

تم جاتے کیوں نہیں ہو؟ موذیل کے لہجے میں چڑا چڑا پن تھا۔

ترلو چن نے آہستہ سے کہا، اس کے ماں باپ بھی تو ہیں۔

جہنم میں جائیں وہ۔۔۔۔۔تم اسے لے جاؤ۔

اور تم۔

میں آجاؤں گی۔

ایک دم اوپر کی منزل سے کئی آدمی دھڑا دھڑا دھڑ نیچے اترنے لگے، دروازےکےپاس آکر انہوں نے کوٹنا شروع کر دیا، جیسے وہ اسے توڑ ہی ڈالیں گے۔

کرپال کور کی اندھی ماں اور مفلوج باپ دوسرے کمرے میں پڑے کراھ رہے ہیں۔

کرپال کور نے سوچااور بالوں کو خفیف جھٹکا دیا اور اس نے ترلوچن سے کہا سنو اب صرف ایک ہی ترکیب سمجھ میں آتی ہے۔۔۔میں دروازہ کھولتی ہو۔۔۔۔

کرپال کور کے خشک حلق سے چیخ نکلتی دب گئی، دروازہ۔

موذیل ترلو چن سے مخاطب رہی میں دروزہ کھول کر باہر نکلتی ہوں۔۔۔تم میرے پیچھے بھاگنا۔۔۔۔میں اوپر چڑھ جاؤ گی۔۔۔تم بھی اوپر چلے جانا۔۔۔۔یہ لوگ دروازہ توڑ رہے ہیں، سب کچھ بھول جائیں گے اور ہمارے پیچھے چلے آئیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترلو چن نے پوچھا پھر؟

موذیل نے کہا یہ تمہاری۔۔۔۔کیا نام ہے اس کا۔۔۔۔۔۔موقع پاکر نکل جائے۔۔۔اس لباس میں اسے کچھ نہ کہے گا۔

ترلو چن نے جلدی جلدی کرپال کور کو سار بات سمجھا دی، موذیل زور سے چلائی دروازہ کھولا اور دھڑام سے باہر کے لوگوں پر گری، سب بوکھلا گئے اٹھ کر اس نے اوپر کی سیڑھیوں کا رخ کیا، ترلوچن اس کے پیچھے بھاگا سب ایک طرف ہٹ گئے۔

موذیل اندھا دھند سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔کھڑاؤں اس کے پیروں میں تھی۔۔۔۔۔۔وہ لوگ جو دروازے کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے، سنبھل کر ان کے تعاقب میں دوڑے، موذیل کا پاؤ ں پھسلا۔۔۔۔۔۔۔اوپر کے زینے سے وہ کچھ اس طرح لڑھکی کہ ہر پتھریلے زینے کے ساتھ ٹکراتی لوہے کے جنگلے کے ساتھ الجھتی وہ نیچے آرہی ۔۔۔۔۔۔

پتھریلے فرش پر۔

ترلو چن ایک دم نیچے اترا، جھک کر اس نے دیکھا تو اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا، منہ سے خون بہہ رہا تھا، کانوں کے رستے بھی خون نکل رہا تھا، وہ جو دروازہ توڑنے آئے تھے، ارد گرد جمع ہوگئے۔۔۔۔۔کسی نے بھی نہ پوچھا کیا ہوا ہے، سب خاموش تھے اور موذیل کے ننگےاور گورے جسم کو دیکھ رہے تھے، جس پر جا بجا خراشیں پڑی تھیں۔

ترلو چن نے اس کا بازو ہلایا اور آواز دی، موذیل۔۔۔۔موذیل۔

موذیل نے اپنی بڑی بڑی یہودی آنکھیں کھولیں، جو لال بہوٹی ہو رہی تھیں اور مسکرائی۔

ترلو چن نے اپنی پگڑی اتار اور کھول کر اس کا ننگا جسم ڈھک دیا،موذیل پھر مسکرائی اور آنکھ مارکر اس نےترلو چن سے منہ میں خون کے بلبلے اڑاتے ہوئے کہا کہ جاؤ دیکھو، میرا انڈر وئیر وہاں ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔

ترلو چن اس کا مطلب سمجھ گیا مگر اس نے اٹھانا نہ چاہا، اس پر موذیل نے غصے میں کہا۔۔۔۔۔۔تم سچ مچ سکھ ہو۔۔۔۔۔۔جاؤ دیکھ کر آؤ۔

ترلوچن اٹھ کر کرپال کور کے فلیٹ کی طرف چلاگیا، موذیل نے اپنی دھندلی آنکھوں سے آس پاس کھڑے مردوں کی طرف دیکھا اور کہا یہ میاں بھائی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن بہت دادا قسم کا۔۔۔۔میں اسے سکھ کہا کرتی ہوں۔

ترلو چن واپس آگیا، اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں موذیل کو بتا دیا کہ کرپال کور جاچکی ہے۔۔۔۔۔۔موذیل نے اطمینان کا سانس لیا۔۔۔۔۔۔لیکن ایسا کرنے سے بہت سا خون اس کے منہ سے بہہ نکلا۔۔۔۔اوہ ڈیم اٹ۔۔۔۔۔یہ کہہ کر اس نے اپنی مہین مہین بالوں سے اٹی ہوئی کلائی سے اپنا منہ پونچھا اور ترلو چن سے مخاطب ہوئی، آل رائٹ ڈارلنگ۔۔۔۔۔بائی بائی۔

ترلو چن نے کچھ کہنا چاہا، مگر لفظ اس کے حلق میں اٹک گئے۔

موذیل نے اپنے بدن سےترلو چن کی پگڑی ہٹالی۔لے جاؤ اس کو۔۔۔۔۔۔اپنے اس مذہب کو، اور اس کا بازو اس کی مضبوط چھاتیوں پر بے حس ہو کر گر پڑا۔

Wednesday, January 18, 2006

غزل

صادق اندوری

(والد مرحوم کی آخری نا مکمل غزل اور ایک شعر۔وفات 31جنوری 1986ء

اعجاز عبید)

غم کی ہر کائنات بھیگ گئی

تم جب آئے تو رات بھیگ گئی

جب تروتازہ تیرے ہونٹوں کی

بات نکلی تو بات بھیگ گئی

پاس رہتے ہوئے بھی دور رہے

باتوں باتوں میں رات بھیگ گئی

تم نے کیا چھو لیا محبت سے

سر سے پا تک حیات بھیگ گئی

سر منڈاتے ہی پڑ گئے اولے

سجتے سجتے برات بھیگ گئی

(16 جنوری 1986ء)

آخری شعر

خوش لباسی تو ایک لعنت ہے

کھول کر سینہ بانکپن سے چلو

(30 جنوری 1986)

ثلاثی : ( ایک بحر میں )

حمایت علی شاعر

الہام

کوئی تازہ شعر اے رب جلیل

ذہن کے غار حرا میں کب سے ہے

فکر ، محو ا نتظار جبر ئیل

اسلوب

کس طرح تراش کر سجائیں

نادیدہ خیال کے بدن پر

لفظوں کی سلی ہوئی قبائیں

شاعری

ہر موج بحر میں کئی طوفان ہیں مشتعل

پھر بھی رواں ہوں ساحلِ بے نام کی طرف

لفظوں کی کشتیوں میں سجائے ، متاع دل

اساس

کب ہوا کی کوئی تحریر نظر میں آئی

گر زمیں ہو، تو ہر اک بیچ میں امکان ِشجر

بے زمیں ہو، تو ہر اک نقش ِ نمو ہے کائی

علم

مرناہے تو دنیا میں تماشا کوئی کرجا

جینا ہے تو اک گوشہ تنہائی میں اے دل

معنی کی طرح لفظ کے سینے میں اُتر جا

حرف آخر

ہر لفظ میں پو شیدہ ہے خود اپنا جواز

ایماں میں نہ کیوں علم ہو شرط اول

اقراء“ ہے نبوت کابھی حرف ِآغاز

یقین

دشوار تو ضرور ہے یہ سہل تو نہیں

ہم پر بھی کھل ہی جائیں گے اسرار شہر علم

ہم ابن ِ جہل ہی سہی ، ”بو جہل“ تو نہیں

انکشاف

عالم تھے ، با کمال تھے ، اہل کتاب تھے

آنکھیں کھلیں تو اپنی حقیقت بھی کھل گئی

الفاظ کے لحاف میں ہم محو ِ خواب تھے

زاویہ نگاہ

یہ ایک پتھر جو راستے میں پڑا ہوا ہے

اسے محبت سنوار دے تو یہی صنم ہے

اسے عقیدت تراش لے تو یہی خدا ہے

مابعد الطبعیات

حرف و رنگ و صوت سب اظہار کے آداب ہیں

ماورائے ذہن ہر تمثیل ، ہر کردار میں

آدمی کی آرزو ہے ، آدمی کے خواب ہیں

ارتقاء

یہ اوج اِک فرار ہے آوارہ بادلو

کونپل نے سر اٹھا کے بڑے فخر سے کہا

پاؤں زمیں میں گاڑ کے سوئے فلک چلو

شرط

شب کو سورج کہاں نکلتا ہے

اس جہاں میں تو اپنا سایہ بھی

روشنی ہو تو ساتھ چلتا ہے

نمائش

قراں ، خدا ، رسول ہے سب کی زباں پر

ہر لفظ آج یوں ہے معنی سے بے نیاز

لکھی ہو جیسے نام کی تختی مکان پر

رویتِ ہلال

خود اگہی نہ جدت ِ فکرو نظر ملی

وہ قوم آج بھی ہے پر ستار چاند کی

جس قوم کوکہ رویتِ”شق القمر“ ملی

وابستگی

جب بھی دیکھا اسے تو یاد آئے

چاند کے گرد، گھومتے تارے

دھوپ کے گرد، بھاگتے سائے

سرشاری

میں ہوں اپنے نشے میں کھویاہوا

آنکھ کیسے کھلے کہ میٹھی نیند

زیرِ مژگاں ہے کوئی سویاہوا

شغل

اُس کے ہونٹوں کے پھول چُن لینا

اور اُن کو بسا کے آنکھوں میں

کچھ ادھورے سے خواب بُن لینا

دیوانگی

یار تو بھی عجیب انساں ہے

ایسی کشتی میں ڈھونڈتا ہے پناہ

جس کے اندر خود ایک طوفاں ہے

ہم سفر

شاید اک دوسرے سے جلتے ہیں

ایک منزل کے راہرو ہیں مگر

کب مہ و مہر ساتھ چلتے ہیں

المیہ

مجھ کو محسوس ہورہا ہے یوں

اپنی صورت میں ہو ں نہ دنیا میں

زنگ آلود آئینے میں ہوں

من توشدم

دیکھ کر اُس کو اور کیا دیکھوں

اب تو یوں بس گیاہے وہ مجھ میں

جب بھی دیکھوں تو آئینہ دیکھوں

بعدازخدا

زندگی یوں گزارتا ہوں میں

پہلے ہونٹوں پہ تھا خدا کا نام

آج تجھ کو پکارتا ہوں میں

زہر خند

جانے کس بات پر ہنسی آئی

رنگ برسے، بکھر گئے اور پھر

اپنی اوقا ت پر ہنسی آئی

پابہ گُل

حمایت علی شاعر

صدیوں کا فاصلہ ہے جنگل سے میرے گھر تک

شاخِ ثمر بکف سے تخلیق کے ہنر تک

اُس پا پیادگی سے ، اِس برق پا سفر تک

یہ فاصلہ ہے میرے ذہن رسا کا ضامن

منزل سے تا بہ منز ل ہر نقش پا کا ضامن

ہر خواب، ہر حقیقت ، ہر ارتقا کا ضامن

اب میری دسترس میں سورج بھی ہے ہوا بھی

یہ پُر کشش زمیں بھی ، وہ بے کشش خلا بھی

اب تو ہے میری زد میں ، دنیا ئے ِ ما ورا بھی

پھر بھی نہ جانے کیوں میں جنگل کو اتنا چاہوں

فردوس گم شدہ کے موہوم خواب دیکھوں

آنگن میں کچھ نہیں تو ایک پیڑ ہی لگاؤں


کمپیوٹراور انٹرنیٹ پر اردو تحریر

اعجاز عبید

اس کلیۓ میں اب کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ دور انفارمیشن ٹکنالوجی کا ہے۔ کوئی میدان ایسا نہیں بچا ہے جس میں کسی نہ کسی مرحلے پر کمپیوٹر کا عمل دخل نہ ہو۔ انٹر نیٹ بھی جو اس سے متعلقہ میدان ہی ہے، اسی طرح اکثر معاملوں میں رو بعمل ہے۔آ ئیۓ دیکھیں کہ اردو کی ادبی، ثقافتی اور صحافتی دنیا اس دور میں کس طرح داخل ہوئی ہے۔

اردو کے معاملے میں کچھ مشکلات تو ہماری زبان کے حروف کی تعداد ہے جو انگریزی سے کہیں زیادہ ہے۔(ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذر ڑ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن و ہ ھ ء لا ی ے۔ کل 39۔مرکب حروف بھ، پھ، تھ، ٹھ وغیرہ کو چھوڑ کر ۔) اس کے علاوہ ہماری زبان کا اہم مسئلہ یہ ہے کہ اردو کے اکثر حروف کی دو دو یا چارچار شکلیں ہیں۔ مثلاً حرف "م" کو دیکھۓ۔

آم: مفرد شکل

مدد: ابتدائی شکل

کمی: درمیانی شکل

قلم: انتہائی شکل ۔

ایک اور مشکل کی بات بعد میں کروں گا۔ پہلے رسم الخط کی ایک بات کروں۔

اردو کا نستعلیق رسم الخط لاکھ خوبصورت سہی مگر ایک اور اہم مشکل نستعلیق رسم الخط کے باعث ہے، کہ اکثر حروف کی عمودی حالت اس پر منحصر ہے کہ وہ حرف لفظ کا دوسرا، تیسرا حرف ہے یا چھٹا ساتواں۔ اسی "م" کی مثال لوں۔

دو حرقی لفظ "من" میں" م" کی اصل سطر (Base Line) سے ایک مخصوص اونچائی ہے۔ایسا ہی دو حرفی لفظ "مد" لیجۓ۔ اب اس میں م کی شکل اور اونچائی دیکھۓ۔ پتہ چلا کہ یہ بعد میں آنے والے حرف پر بھی منحصر ہے۔ اب تین حرفی الفاظ لیجۓ۔ "منت" اور "مگر"۔ نہ صرف یہ کہ ان کی عمودی حالت مختلف ہے، بلکہ ان کی اونچائی بھی دو حرفی الفاظ کی بہ نسبت کہیں زیادہ ہے۔ چار حرفی لفظ "منظر" لیجۓ ۔ دیکھۓ اب "م" اور اونچا ہو گیا ہے۔ اب ٦حرفی لفظ "مستقبل" کو دیکھیں۔ اصل سطر سے "م" اب کتنا اوپر اٹھ گیا ہے۔ یہی نہیں۔ غور کریں کہ ساتھ ہی دوسرے اور تیسرے حروف بھی اسی طرح اونچے ہوتے جاتے ہیں۔ "مست" اور "مستقبل" دونوں کے "س" کی اونچائی دیکھیں۔ اور یہی وجہ کہ اردو پریس اب بھی کتابت سے اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکی ہے۔ اب بھی بے شمار رسائل اور کتابیں لیتھو پریس میں چھپتے ہیں۔

اب دیکھیں کہ خطِ نسخ میں اگرچہ اونچائی والا مسئلہ تو نہیں ہے، مگر حروف کی مفرد ، ابتدائی، درمیانی اور انتہائی شکلیں بہر حال ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اردو (بلکہ در اصل عربی اور فارسی، جن میں معمولی سی تبدیلی کر کے اردو بازار میں لایا گیا) ٹائپ رائٹر بنے تو یہی نسخ استعمال میں آیا۔ فارسی اور عربی میں تو نسخ خط ان علاقوں کے لۓ قطعی عجیب نہیں ہے مگر ہم اردو والے اس سے اب بھی بدکتے ہیں۔ مولانا آزاد نے اردو ٹائپ کو رواج دینے کی بہت کوشش کی کہ لیٹر پریس کی چھپائی میں نسخ میں حرف کی ہر شکل کے بلاکس بن سکتے تھےاور ان کو کمپوزنگ کر کے پلیٹ بنائی جا سکتی تھی۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پاکستان میں بھی ٹائپ کو رواج دینے کی کوشش کی گئی۔ لاہور سے ماہنامہ "سویرا" اور ان کے مکتبے سے دوسری کتابیں بھی شائع ہوئیں۔

اور جب کمپیوٹر کا چلن شروع ہواتو اس جانب بھی توجہ دی گئی اور "کاتب" اور "راقم" جیسے سافٹ ویر بناۓ گۓ جو DOSنامی آپریٹنگ سسٹم پر مبنی تھے۔ اور اس کے بعد جب نوے کی دہائی میں ونڈوز1ء3 اور ونڈوز95بازار میں آۓتو ان آپریٹنگ سسٹموں کی بہتر سہولتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ پاکستان میں "ماہر" اور" اردو 98 " نامی سافٹ ویر بنائے گئے۔ ہندوستان میں "ان پیج" اور "صفحہ ساز" (یا اردو پیج کمپوزر)بنے۔ پوری اردو دنیا میں اب بھی سب سے زیادہ استعمال میں آنے والا سافٹ ویر ان پیج ہی ہے۔ اکثر پریسوں میں اسی کا استعمال ہوتا ہے، اگرچہ حیدر آباد(ہند)میں" صفحہ ساز" کا دور دورہ ہے کہ یہ یہیں بنایا گیا ہے۔

جب کمپیوٹر پر کسی بھی زبان میں کچھ ٹائپ کیا جاتا ہے تو آپریٹنگ سسٹم اسے کئی اعمال سے گزارتا ہے۔ اس کی وجہ در اصل یہ ہے کی کمپیوٹر کی اپنی زبان دوسری ہے جسے بائنری (Binary)کہتے ہیں۔ جب بھی آپ کمپیوٹر کے کی بورڈ پر کوئی کنجی دباتے ہیں تو اس کنجی کا حرف ٹائپ رائٹر کی طرح نہیں ہوتا ہے کہ خود بخود کاغذ پر اتر جاۓ۔ ٹائپ کۓ حرف کو پہلے اسکرین (مانیٹر) پر ظاہر کرنے میں چار عوامل اہم ہیں:

1۔ کی بورڈ کی قسم

2۔ آپریٹنگ سسٹم کا تحریری انجن۔

3۔ ایک پوشیدہ "کوڈ"

4۔ٹائپ یا فانٹ

اور ان سب کے پیچھے کمپیوٹر کی بائنری زبان۔ جو ہر حرف کو عدی نظام میں سمجھتی ہے۔

عموماً استعمال کے کی بورڈ میں 47 کنجیاں ہوتی ہیں جن سے تحریر (Text)ٹائپ کی جاتی ہے۔ باقی کنجیاں دوسرے کام کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ "شفٹ" کنجی کے ذریعے سینتالیس کنجیوں سے کل چورانوے حروف اور علامتیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ اردو کے انتالیس حروف ک بات ہم کر چکے ہیں۔ اب ان کی مختلف شکلیں پھر دیکھیں:

چار چار شکلوں والے حروف: ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن ہ ھ ی: 27 ضرب 4۔ 108

دو دو شکلوں (ابتدائی اور انتہائی)والے حروف: د ڈ ذ ر ڑ ز ژ و ے ۔ 10 X2=20

اس طرح ہم کو 1128حروف چاہیۓجو کمپیوٹر کی چورانوے کنجیوں سے نہیں بناۓ جا سکتے۔ اور یہ بات میں صرف حروف کی کر رہا ہوں۔ ان کے علاوہ ہم کو کئی علامتیں، رموز اور اوقاف کی ضرورت بھی ہو گی۔ وقفہ (۔)، کاما (،)، سوالیہ نشان (؟)، تخاطب'( ")استمراری (!)، اعداد (صفر سے نو)۔ بلکہ مستعمل علامتوں کی تعداد "اردو میں کچھ زیادہ ہی ہے جن میں تخلص، سن عیسوی/ہجری،صفحہ، اعداد، صلی اللہ علیہ وسلم، رحمت اللہ علیہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب کو شمار کیا جاۓ تو حروف اور علامتوں کی کل تعداد ڈیڑھ سو سے تجاوز کر جاتی ہے۔

ایک مسئلہ اردو کا دائیں سے بائیں ہونا بھی ہے۔بلکہ اس سے کہیں زیادہ یہ مشکل ہے کہ اس کے باوجود ہمارے اعداد بائیں سے دائیں ہیں!!

جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ کمپیوٹر محض بائنری زبان سمجھتا ہے۔ اور اس میں اوپر بتاۓ گۓ چار عوامل اس طرح کام کرتے ہیں کہ جیسے آپ نے امریکی انگریزی کی بورڈ(جو عام طور پر مستعمل ہے) پر 'A'کی کنجی دبا ئی۔ آپریٹنگ سسٹم کے تحریری انجن نے کی بورڈ سے یہ پیغام (سگنل) وصول کیا مگر عددی نظام میں ۔ یہ انجن دیکھتا ہے کہ کی بورڈ کون سا ہے، اور پھر یہ کہ "کوڈ " کون سا ہے۔ اگر یہ آسکی (American Standard Code for Information Interchange )ہے تو یہ پیغام عدد 65کی شکل میں تبدیل ہو جاۓ گا۔ اور اس کوڈ کے مطابق یہ انگریزی کا (بلکہ صحیح طور پر کہیں کہ بنیادی لاطینی کا) حرف بڑااے (A) ہے۔ پھر یہ انجن دیکھتا ہے کہ سافٹ ویر جو استعمال کیا گیا ہے اس نے کسی فانٹ کی نشان دہی کی ہے یا نہیں۔ اب اگر آپ مائکروسافٹ ورڈ استعمال کر رہے ہیں اور آپ نے ایریل فانٹ استعمال کیا ہے، تو اس انجن کے ذریعےاس فانٹ میں5 6 عدد والے حرف کی جو شکل یا تصویر (اصطلاح کے مطابق Glyph)، اسے اسکرین پر بھی پیش کیا جاۓ گا ا ور جب آپ پرنٹ کا آرڈر دیں گے تو ایریل فانٹ میں"A"چھپ جاۓ گا۔ اگر سافٹ ویر ایسا ہے جس میں کسی فانٹ کی نشان دہی نہیں ہے (جیسا کسی ٹیکسٹ اڈیٹر جیسے ونڈوز نوٹ پیڈ میں) تو سسٹم فانٹ میں 'Aپرنٹ ہوگا۔

تو یہاں جو کوڈ استعمال میں ہوا وہ آسکی ہے جو اب بھی سب سے زیادہ مستعمل ہے۔ مگر جب عربی کی بورڈ پر یا عربی آپریٹنگ سسٹم میں آپ کی بورڈ پر کچھ ٹائپ کریں گے تو اس کا کوڈ دوسرا ہوگا، چینی کا اور مختلف جیسے Big5۔

اردو کے لۓ ہندوستان میں بھی اسی طرح کی کوشش کی گئی اور ایک کوڈ بنایا گیا جس کا نام رکھا گیا PARSCII (Persio Arabic Standard Code for Information Interchange) ۔جس میں عربی، فارسی، اردو، سندھی، کشمیری وغیرہ شامل ہیں۔ مگر اس کو زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہوئی۔

غرض کسی بھی تحریر کو کمپیوٹر کی زبان میں تبدیل کرنے کے لۓ کوئی نہ کوئی کوڈ بہت ضروری ہے۔ اردو بلکہ کسی بھی ہندوستانی زبان کے لۓ جو سافٹ ویر بناۓ گۓ وہ سبھی اسی آسکی نظام پر تھے۔ یہ کس طرح کام کرتے ہیں، اسے سمجھنے کے لۓ ضروری ہے کہ پہلے آسکی کوڈ کو سمجھا جاۓ، یہ پہلےسات بٹ بائنری نظام تھا جس میں صفر سے 128تک کے اعداد مختلف حروف اور علامتوں (بلکہ انگریزی لفظ Characterہی زیادہ بہتر ہے جس میں دو الفاظ کے درمیان کی خالی جگہ بھی شامل ہے جسے کی بورڈ کےسپیس بار سے بنایا جاتا ہے)کے حق میں مخصوص تھے۔ بعد میں اسے آٹھ بَٹ نظام (8Bit System, 2x2x2x2x2x2x2x2=256) بنایا گیا اور اس طرح اس میں کل دو سو چھپن (256۔ 2 پر 8 کی قوت) کیریکٹرس شامل کۓ جا سکے۔ اس میں کچھ تو آپریٹنگ سسٹم کے لۓ مخصوص تھے۔ یہ اس طرح ہیں:

ASCII 0 – 32 : سسٹم

ASCII 33-64: ! " # $ % & ' ( ) * + , - . / 0 1 2 3 4 5 6 7 8 9 : ; < = > ? @

ASCII 65-90: A B C D E F G H I J K L M N O P Q R S T U V W X Y Z

ASCII 91 -96: [ \ ] ^ - `

ASCII 97 – 122: a b c d e f g h i j k l m n o p q r s t u v w x y z

ASCII 123 – 126: { | } ~ (127-161سسٹم)

ASCII 162-192: ¡ ¢ £ ¤ ¥ ¦ § ¨ © ª « ­ ® ¯ ° ± ² ³ ´ µ • ¸ ¹ º » ¼ ½ ¾ ¿

ASCII 193- 255: À Á Â Ã Ä Å Æ Ç È É Ê Ë Ì Í Î Ï Ð Ñ Ò Ó Ô Õ Ö × Ø Ù Ú Û Ü Ý Þ ß à á â ã äå æ ç è é ê ë ì í î ï ð ñ ò ó ô õ ö ÷ ø ù ú û ü ý þ ÿ

اب میں مقبول سافٹ ویر ان پیج کی مثال دیتے ہوۓ بتانے کی کوشش کروں گا کہ یہ کس طرح کام کرتا ہے۔ اور مثال اسی لفظ کی لوں جو پہلے بھی لی تھی یعنی لفظ "مستقبل" کی۔

اب میں یہ فرض کر کے چل رہا ہوں کہ آپ کو معلوم ہے کہ حرف م کس طرح ٹائپ ہوگا اور حرف س کس کنجی سے۔ اب آپ کسی کنجی کی مدد سے حرف م ٹائپ کرتے ہیں تو اسکرین پر آپ کو مفرد حرف م نظر آۂۓ گا۔ پھر کمپیوٹر (صحیح طور پر اس کا ٹیکسٹ انجن) یہ انتظار کرے گا کہ آپ اس حرف کے بعد سپیس بار دبا کرخالی جگہ چھوڑتے ہیں یا فوراً کوئی دوسرا حرف ٹائپ کرتے ہیں۔ اگر آپ نے اسپیس بار دبائی تو وہ سمجھ لے گا کہ یہ" م" لفظ کا آخری حرف ہے اور اس کی شکل یہی مفرد رہے گی۔ مگر جب آپ مستقبل ٹائپ کرنے کے لۓ اگلا حرف "س" ٹائپ کریں گے، تو یہ انجن پہلے دیکھے گا کہ "م" اور "س" کی ملحقہ صورت کیا ہے۔ اور اب آپ کو "مس" دکھائی دے گا۔ آپ کے "ت" ٹائپ کرنے پر" م"س کی شکل فوراً بدل کر "مست" ہو جاۓ گی۔ اور اس کے بعد کا "ق" ٹائپ کرنے پر "مستق"، پھر" ب" ٹائپ کرنے پر"مستق" "مستقب" سے بدل جاۓ گا۔ اور پھر "ل" کے بعد" مستقبل"۔ اور جب آپ نے اس کے بعد سپیس بار (یا وقفہ۔ یا کاما) دبائی تو یہ انجن جان لے گا کہ اس لفظ کی یہی آخری شکل ہے اور "مستقبل" کی شکل میں کوئی مزید تبدیلی واقع نہیں ہوگی۔

اس سافٹ ویر میں اس طرح استعمال میں آنے والے حرفوں کے ہر مجموعے کی شکلیں (Glyphs) موجود ہیں۔ اور یہ سافٹ ویر کا ہی کام ہے کہ وہ دیکھے کہ اگلی شکل جو بننے والی ہے، وہ کس فانٹ میں ہے اور اس شکل کا متعلقہ فانٹ کا آسکی کوڈ کیا ہے۔ اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ "م" فانٹ نمبر ایک میں انگریزی کے "جی" کی جگہ ہےتو "مست" ممکن ہے کہ فانٹ نمبر دس میں سوالیہ نشان کی جگہ پر۔ اس طرح اس سافٹ ویر میں نستعلیق کے لۓ کل 85فانٹ استعمال کۓ گۓ ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ ہر فانٹ میں وہی صفر سے 255 (کل256 ) آسکی کوڈ والے کیریکٹر استعمال میں آۓ ہیں۔ غرض ان پیج میں ان سارے فانٹس کو ایک ہی نام دیا گیا ہے۔ نوری نستعلیق۔ جب کہ پورا لفظ "مستقبل" ہی ان میں سے ایک فانٹ کی شکل (Glyph)ہے۔

آسکی کوڈ پر منحصر کسی بھی نظام کے سافٹ ویر کے ساتھ یہی مشکل ہے کہ جب آپ مجھے اس کی فائل دیں گے تو مجھے بھی اس سافٹ ویر کی ہی ضرورت ہوگی جو میں اسے پڑھ سکوں۔ ہندی وغیرہ کے سافٹ ویر میں تو یہ ہے کہ آپ مجھے فانٹ کی فائل بھی دے دیں تو میں اس فانٹ کو انسٹال کر کے آپ کی تحریر پڑھ سکوں گا۔ مگر ان پیج میں تو آپ کی تحریر میں 89فانٹ ہیں، لفظ "تحریر" میں ہی دو الگ الگ فانٹ ہیں "تحر" کا الگ اور" یر" کا الگ۔ پھر آپ مجھے ان پیج کی فائل دیں تو میں بغیر ان پیج کے تو پڑھ نہیں سکوں گا۔ اس طرح اس میں فائل Shareنہیں کی جا سکتی۔ اس کی ترکیب ان پیج والوں نے ہی یہ نکالی ہے کہ آپ ہر صفحے کو ایک تصویر (Graphics) کی شکل میں تبدیل (Import) کر سکتے ہیں۔ اب آپ اس تحریر کی تصویر دیکھ سکتے ہیں (جو کہ ایک GIFفائل کی شکل میں ہوتی ہے) انٹر نیٹ کی دنیا میں اردو سے متعلق بے شمار ویب سائٹس میں اسی تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔ )

مگر پرنٹنگ پریس میں جہاں نئی نئی ٹکنا لوجی اپناتے ہوۓ ہر تحریر کو مختلف طریقے سے چھانٹا جاتا ہے۔ مثلاً رنگوں کو علیحدہ کیا جاتا ہے جو پریس میں استعمال کی جانے والی تین یا چار رنگوں میں ہی ہر رنگ پیدا کر سکے۔ ان کو تحریری فائل کی ایک اور شکل درکار ہوتی ہے جسے پرنٹرس کی زبان میں پوسٹ اسکرپٹ کہتے ہیں۔ یہ سب ان پیج میں ممکن نہیں۔ مگر ان پیج کے حالیہ ورژنوں میں یہ سہولت بھی ہے کہ آپ اس کے ٹیکسٹ فریم کو تصویر کی طرح کاپی کر کے کورل ڈرا نامی ڈی۔ٹی۔پی سافٹ ویر میں پیسٹ کر سکتے ہیں اور وہاں اس کے ہر حرف کو بنایا بگاڑا جا سکتا ہے۔ اور اس طرح پرنٹنگ پریس والے عموماً اردو تحریر چھاپتے ہیں۔

اور یہ سب مشکلات اس باعث بھی تھیں کہ اردو کا الگ سے کوئی قابل قبول کوڈ موجود نہیں تھا۔ اردو ہی نہیں، دنیا کی بیشتر زبانوں کا یہی حال تھا۔ کچھ زبانیں تو اوپر سے نیچے بھی لکھی جاتی ہیں جیسے چینی اور جاپانی۔ اور ان زبانوں میں حروف نہیہں بلکہ پورے الفاظ کے لۓ کوئی شکل (Glyph) اسستعمال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ 1991ء میں کمپیوٹر کی کچھ بڑی کمپنیوں جیسے ایپل، مائکرو سافٹ، اڈوبی وغیرہ نے ایک نۓ آفاقی کوڈ کے بارے میں سوچا۔ اسے آفاقی کوڈ (Universal/ Unicode) کہا جاتا ہے۔ یہ پہلے 16بٹ نظام تھا اور اس طرح اس میں دو پر 16 کی طاقت یعنی 65536 کیریکٹرس کی گنجائش ہے۔ اور اب اسے 32 اور 64 بٹ نظام کے طور پر ترقی دی جا رہی ہے۔ تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس میں کتنی زبانوں کے ہر کیریکٹر کو شامل کیا جا سکے گا۔ اردو اس سلسلے میں عربی حصےّ کا ہی استعمال کرتی ہے۔اور اسی میں سندھی، پشتو، کشمیری وغیرہ کئی زبانوں کے کیریکٹرس شامل ہیں۔ ہندی سے حاصل اردو کے مخصوص حروف ٹ، ڈ، ڑ وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں اور تین نقطوں والی ف بھی جو سندھی میں شامل ہے۔ اور اب اس کوڈ کا استعمال کر کے تحریر کی جاۓ تو فانٹ کی کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ جس طرح کمپیوٹر کسی مخصوص آسکی فانٹ کی عدم موجودگی میں کويئی بھی فانٹ استعمال کر لیتا تھا۔ اور دوسری زبانوں کی مخصوص فانٹ کی تحریروں کو پڑھنے کی کوشش میں Î Ï Ð Ñ Ò Ó Ô Õ جیسے حروف دکھائی دیتے تھے، اب ایسا نہیں ہوگا اگر یونی کوڈ میں تحریر لکھی جاۓ۔ میں جس فانٹ میں یہ مضمون ٹائپ کر رہا ہوں، وہ اگر آپ کے پاس موجود نا بھی ہو تو بھی کمپیوٹر کوئی دوسرا فانٹ ایسا چن لے گا جس میں اردو کے کیریکٹرس شامل ہوں، جیسے عام فانٹ ٹائمس، ایریل یا ٹاہوما۔ اور یہ تحریر نستعلیق میں نہ سہی، نسخ فانٹ میں پڑھی تو جا سکے گی۔ یہ یونی کوڈ نظام مستقل ترقی پذیر ہے اور حال ہی میں یکم اپریل کو اس کا 4.2 ورژن جاری کیا گیا ہے۔

مائکرو سافٹ کے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 2000اوربطور خاص XP پوری طرح یونی کوڈ پر منحصر ہیں۔ ایک اور آزاد آپریٹنگ سسٹم لِنکس تو تقریباً دس سال سے اس کوڈ کو استعمال کر رہا ہے۔ اب آپ اس کے اہل ہیں کہ سادہ ٹیکسٹ اڈیٹر جیسے نوٹ پیڈ میں بھی اردو میں تحریر لکھ سکتے ہیں۔ اسی کوڈ کا استعمال کر کے ای میل بھی بھیج سکتے ہیں جسے حاصل کرنے والا بھی پڑھ سکے گا۔ اس کے لۓ کسی مخصوص سافٹ ویر کی چنداں ضرورت نہ ہو گی۔ اس میں دو راۓ نہیں کہ یونی کوڈ ہی مستقبل ہے۔اور اب آسکی نظام قریب المرگ ہے۔

کچھ عرصے سے پاکستان میں اور اب ہندوستان میں www.indlinux.org کی یہ کوششیں جاری ہیں کہ لنکس نامی پورے آپریٹنگ سسٹم کو اردو میں ڈھال دیا جاۓ، اس طرح کہ آپ کو اپنے ڈیسک ٹاپ پر ہر حرف اردو کا نظر آۓ۔ عربی اور فارسی میں یہ کوشش کامیابی سے کی جا چکی ہے اور www.arabeyes.orgنے عربکس نامی آپریٹنگ سسٹم اور www.shabdix.org نے شبدیز نامی آپریٹنگ سسٹم بنایا ہے۔ اور یہ ایسی سی ڈی کی صورت میں ہے کہ اسے آپ انسٹال کۓ بغیر چلا سکتے ہیں اور کام کر سکتے ہیں یا کم از کم اس کی کھوج بین (explore)کر سکتے ہیں۔

آخر میں ایک اہم بات۔ اس بات سے مجھے بے حد تکلیف ہوتی ہےکہ اس آفاقی کوڈ کے باعث جب اردو میں کام کرنا اتنا آسان ہو گیا ہے تو اس کے استعمال کی ٹریننگ کیوں نہیں دی جاتی۔ کمپیوٹر رسالے (جو اردو میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہیں) ہی نہیں، دوسری زبانوں اور انگریزی کے رسالےبھی اس سلسلے میں خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ حالاں کہ اس کوڈ کے ذریعے ہندوستان کی ہی نہیں، دنیا کی ہر زبان لکھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح کئی اکادمیاں اردو ڈی۔ٹی۔پی کی ٹریننگ دیتی ہیں مگر میری ناقص معلومات کے مطابق یہ سب بھی محض ان پیج اور اردو پیج کمپوزر کی ہی ٹریننگ دیتی ہیں۔ امید کرتا ہوں کہ ہندوستان کی کونسل براۓ فروغِ اردو زبان اس سلسلے میں پیش قدمی کرے گی۔جب تک یہ بات عام نہیں ہوتی کہ اب کسی زبان میں کام کرنے کے لۓ کسی خاص سافٹ ویر کی ضرورت نہیں، اردو دنیا میں ہر طرف ان پیج کا استعمال، بلکہ اگر سچ کہوں تو اس کی چوری(Piracy) جاری رہے گی۔ حالاں کہ کورل ڈرا ڈی ٹی پی سافٹ ویر کا تازہ ورژن بھی اردو یونی کوڈ کی صلاحیت رکھتا ہے اور سیدھے اسی میں ڈی ٹی پی کا کام کیا جا سکتا ہے اور ورڈ ایکس پی میں بھی ۔پیج میکر نام کا سافٹ ویر اس معاملے میں ابھی پیچھے ہے۔

اب آئۓ انٹر نیٹ کی طرف۔ اردو کی ویب سائٹس کہلانے والی ویب سائٹس دو اقسام کی ہیں، ایک تصویری اردو کی، دوسری تحریری اردو کی۔ تصویری اردو کی ویب سائٹ کو میں اردو زبان کی ویب سائٹ نہیں مانتا۔ یہ ویب سائٹس ان پیج میں ٹائپ کر کے اس کے ہر صفحے کو تصویری شکل میں امپورٹ کر کے بنائی جاتی ہیں۔ یوں یہ پڑھنے میں تو آ جاتی ہیں، لیکن اس میں ذیل کی مشکلات ہیں:

1۔تصویری شکل کی ہونے کی وجہ سے یہ ویب صفحات کافی دیر میں لوڈ ہوتے ہیں

2۔ اسی وجہ سے اگر آپ کو کسی صفحے سے تھوڑا سا حصہ، مثلاً پوری غزل کا ایک ہی شعر نقل (کاپی) کر کے اپنے کمپیوٹر پر محفوظ کرنا ہے تو آپ نہیں کر سکتے، اور نہ آپ اس طرح اشعار اپنے مضمون میں " کوٹ'" کر سکتے ہیں۔

3۔ کیوں کہ جو کچھ آپ کے سکرین پر نظر آتا ہے، وہ محض تصویر ہے، اس لۓ آپ انٹر نیٹ پر تلاش نہیں کر سکتے۔ مثلاً آپ کو غالب کا نقش فریادی والا شعر یاد نہیں آ رہا ہے۔ اب اگر وہ غزل تصویر کی صورت میں ہے تو آپ کا تلاش والا انٹر نیٹ انجن، جیسے گوگل، ظاہر نہیں کر سکے گا۔ آپ چاہے اردو میں لکھیں یا انگریزی میں۔ لیکن جب آپ اردو میں یہی لفظ لکھ کر تلاش کریں تو گوگل کی تلاش میں پہلی جگہ پر ہی صحیح نتیجہ برامد ہوگا۔ دیکھۓ، یہ مثال یہاں ہی ہے:

http://www.google.com/search?hl=en&q=%D9%86%D9%82%D8%B4+%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DB%8C&btnG=Google+Search

یہی نہیںں بلکہ اب گوگل بھی اردو میں دستیاب ہے، اپنی زبان کی ترجیحات اردو منتخب کریں تو گوگل کا اپنا صفحہ بھی آپ اردو میں دیکھ سکتے ہیں۔

ایک عالمی پروجیکٹ ہے جسے وکی پیڈیا کا نام دیا گیا ہے اور جو ایساآن لائن انسائکلو پیڈیا ہے جس میں آپ خود بھی اضافہ یا تبدیلی کر سکتے ہیں، اس کا بھی اردو چینل دستیاب ہے جسے www.wikipedia.org/urduپر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ بھی اسی یونی کوڈ کے سبب ممکن ہو سکا ہے۔ اسی طرح کا ایک پروجیکٹ اردو وکی اردو ویب پر بھی ہے جسے یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی سائٹ پر انگریزی میں کتابوں کی انٹر نیٹ لائبریری کے پروجیکٹ گٹن برگ کی طرح ایک پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔ کتاب گھ پر بھی جہاں پہلے کتابیں ان پیج سے پی ڈی ایف فارمیٹ میں تبدیل کر کے آن لائن دستیاب کی جارہی تھیں، اب اردو تحریر میں بھی دستیاب ہیں۔

مزید تحریری سائٹس میں ایک تو آپ کے سامنے ہی ہے آپ کا اپنا جریدہ ’سمت‘۔ اس کے علاوہ مزید ایسی اردو کی تحریری ویب سائٹس ہیں:

بی بی سی اردو

روزنامہ بوریت کراچی

پاک آئی ٹی مارکیٹ

اِسلامی ملٹی میڈیا

پطرس بخاری

اردو پوائنٹ فیملی

ہم سب دوست

دی وائس آف اردو سروس جرمنی

اردو انٹرنیٹ

لولی پاکستان

ایک اچھی کوشش اردو ویب کی فورم کی صورت میں ہےجو اردو کی پہلی مکمل یونی کوڈ ویب سائٹ ہے۔ اس کو اردو کا مکمل پورٹل بنانے کی کوشش جاری ہے۔ اسی سائٹ پر ہی اردو وکی بھی ہے اور اردو سیارہ بھی جس میں اردو کے کئی بلاگس بھی موجود ہیں۔ (بلاگس ذاتی نوعیت کے جرنلس یا ڈائری ہوتی ے جسے مصنف دوسروں کے ساتھ شئر کرنا چاہتا ہے۔ اور اب اس میں بھی طرح طرح کے تجربے کۓ جا رہے ہیں، مثلاً یہ آن لائن جریدہ بھی دراصل اس کے مدیر کا بلاگ ہے۔) اردو ویب کی محفل کی طرح یہ فورمس بھی فعال ہیں:

اردو نیشن بات چیت

بات سے بات

اردو سنٹر کی چوپال

اس کے علاوہ کچھ ویب سائٹس کچھ حد تک اردو تحریر کو اپنا رہی ہیں اگرچہ پرانا مواد ان میں تصویری اردو میں ہے، یہ ہیں:

اردوستان

اردو منزل

اردو لائف

اردو تحریر کو کمپیوٹر پر لکھنے پڑھنے کی مدد کے لۓ اکثراردو تحریری ویب سائٹس پر امداد بھی مل سکتی ہے۔ بہت س ایسی فورمس ہیں جو ان لوگوں کو اردو میں تحریر کرنے کے لۓ سائٹ پر ہی نوٹ پیڈ مہیا کرتی ہیں جہاں آپ صوتی طور پر (جیسے ایم کی کنجی سے میم اور این کی کنجی سے نون) اردو تحریر ٹائپ کر سکتے ہیں۔ اردو لائف ای میل کی سہولت بھی اسی طرح دیتی ہے۔ اردو لائف، اردو ویب اور اردو سینٹر پر ایسی سہولت موجود ہے۔ اردو تحریر کو قابل عمل بنانے کے لۓ بھی کچھ فعال گروہ ہیں۔ ایسا ہی ایک بے حد فعال گروہ یاہو کا اردو کمپیوٹنگ گروپ ہے. یہاں آپ کو صوتی کی بورڈ اور فانٹس بھی دستیاب ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کا مرکز تحقیقات اردو پر بھی ونڈوزا ور لینکس کے کلیدی تختے اور فانٹس دستیاب ہیں۔مختصر طور پر یہاں بھی کچھ بنیادی معلومات دی جا رہی ہے۔

انٹر نیٹ پر اردو تحریر کیسے پڑھیں

اس سے پہلے کہ آپ اپنے کمپیووڑ کو اردو لکھنے کے قبل بنائیں، ضروری ہے کہ اسے اردو پڑھنے کے قابل بنایا جاۓ۔ اگر آپ کا آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 2000 یا ایکس پی ہے تو آپ کو اردو کی کوئی بھی فائل پڑھنے میں مشکل نہیں ہوگی، حتیٰ کہ اگر آپ کے پاس وہی فانٹس نہیں بھی ہوں جو کہ ڈاکیومنٹ میں استعمال کۓ گۓ ہیں، لیکن کیوں کہ لکھتے وقت ہی اسے اردو زبان کی شناخت دی گئی ہے تو بھی پروگرام اپنے ڈیفالٹ فانٹ میں آپ کو تحریر دکھا سکے گا۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ اگر آپ کے پاس پرانےورژن کے فانٹس ہی ہوں تو کچھ حروف صحیح دکھائی نہیں دیں گے، لیکن اگر آپ کے پاس خالص اردو کے فانٹس (نفیس نستعلیق، نفیس نسخ، نفیس ویب نسخ، اردو نسخ ایشیا ٹائپ، اردو یونی کوڈ، نسق نگار، اردو نسق یا ٹاہوما کا نیا ورژن) ہیں تو کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ انٹر نیٹ پر البتہ آپ کا انٹر نیٹ پروگرام، جسے براؤزر کہتے ہیں، اگر یونی کوڈ نہیں پہچان سکا تو آپ کو اردو تحریر کی جگہ محض کچھ مستطیل نظر آ سکتے ہیں۔ اس کے لۓضروری ہے کہ نہ صرف آپ ہر اردو ویب صفحے کو (اور خیال رہے کہ یہ ہم صرف اردو تحریری ویب صفحے کی بات کر رہے ہیں، تصویری اردو تو بہر حال نظر آۓ گی ہی) بلکہ ہر صفحے کو یونی کوڈ میں ہی دیکھ سکیں تو بہتر ہوگا۔ انٹڑ نیٹ ایکسپلورر اور ایسے ہی دوسرے براؤزرس اپنا ڈیفالٹ لیٹن انگریزی اور کوڈ ویسٹرن، 8859 ہی رکھتے ہیں، ان کو اردو کےلۓ صحیح طور پر کانفی گیور کرنے کے لۓ یہ عمل کریں:

انٹر نیٹ ایکسپلورر:

ٹولس کا مینو بٹن دبائیں اور انٹر نیٹ آپشنس پر کلک کریں۔ نیچے آپ ایک لنگویجیز کا بٹن دیکھیں گے، اس کو کلک کرنے سے آپ کو محض امریکی انگریزی کا اندراج ملے گا۔ اور اس ونڈو میں ایک ایڈ" کا بٹن ہوگا۔ اس کو کلک کرے آپ اردو زبان کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ پھر انٹر نیٹ آپشن پرواپس جائیں۔


اور اس بار فانٹس کا بٹن چنیں۔ اس ونڈو میں ڈیفالٹ ہوگا لیٹن بیسڈ میں کچھ فانٹس۔ ان میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ لیکن لینگویج اسکرپٹ کو کلک کریں تو آپ کو کئی زبانیں بھی نظر آئیں گی، مگر یہاں آپ یوزر ڈیفائنڈ کو منتخب کریں۔ اور ویب صفحے کا فانٹ نفیس نستعلیق یا اردو نسخ ایشیا ٹائپ، یا جو بھی اردو فانٹ آپ کو پسند ہو، منتخب کر لیں۔ اگر مکمل نستعلیق شکل ہی پسند کریں تو محض نفیس نستعلیق فانٹ ہی دستیاب ہے، لیکن خیال رہے کہ نستعلیق فانٹ ویب صفحے کو ثقیل بنا دیتا ہے اور اسے لوڈ ہونے میں معمول سے زیادہ وقت لگتا ہے۔

اس لے بہتر ہو کہ جب تک اچھا اور ہلکا نستعلیق فانٹ نہیں دستیاب ہو، تب تک نسخ فانٹ سے کام چلائیں۔ یقین رکھیں، نسخ کے باوجود اردو کی ترقی اسی میں مضمر ہے کہ انٹر نیٹ پر اردو تحریر میں دستیاب ہو۔



اوپیرا:

اس براؤزر میں بھی ٹولس اور پھر ترجیحات میں جائیں۔ یہاں سب سے نیچے انگریزی کا ڈیفالٹ رہنے دیں، لیکن ڈیٹیلس کے بٹن کو کلک کریں تو یہاں بھی سب سے نیچے کے خانے میں ان کوڈنگ کو آئی ایس او 8859 کو بدل کر یو ٹی ایف۔8 چن لیں۔



اسی ونڈو میں زبانوں کے خانے میں محض انگریزی ہوگا۔ یہاں بھی ایڈ بٹن کلک کر کے اردو جوڑ دیں اور اس کے لۓ بھی ان کوڈنگ یو ٹی اف۔8 منتخب کریں۔

اس کے علاوہ اڈوانس کا بٹن دبائیں۔ یہاں بائیں طرف فانٹ منتخب کریں۔ یہاں آپ کو نیچے کی سمت انٹرنیشنل فانٹس کی تحریر دکھائی دے گی۔ اس پر کلک کریں۔

یہاں کی ونڈو میں رائٹنگ سسٹم عربک چن کر داہنی طرف اپنے پسندیدہ فانٹ کا انتخاب کریں یعنی اردو نسخ ایشیا ٹائپ یا نفیس نستعلیق۔

اور اگر آپ چاہیں کہ کسی ویب صفحے میں زبان کی تخصیص نہ کی گئی ہو اور اردو تحریر ہو تب بھی آپ کو اردو صحیح نظر آۓ تو چاہیں تو اپنا ڈیفالٹ فانٹ ہی تبدیل کر دیں۔ فانٹس کی ترجیحات میں ہی ویب پیج نارمل ٹیکسٹ کو چن کر اپنا فانٹ منتخب کر لیں چوز کا بٹن دبا کر۔

فائر فاکس۔موزیلا یا فلاک:

ان براؤزرس میں ٹولس، آپشنش میں جائیں اور جنرل ٹیب چنیں۔ یہاں بھی آپ ایک بٹن لینگویج کا دیکھیں گے۔ اس میں بھی آپ امریکی انگریزی درج پائیں گے اور ان کوڈنگ ویسٹرن وغیرہ درج ہوگی۔

اسے بھی یو ٹی ایف 8 کر دیں، ایڈ کا بٹن دبا کر یہاں بھی اردو کا اضافہ کریں اور اس کے لۓ بھی ان کوڈنگ کے تحت یو ٹی ایف 8 کا انتخاب کریں۔ اوکے کر کے واپس جائیں اور اب فانٹس اور رنگ کا بٹن چنیں۔ اس میں ببھی ویسٹرن کے تھٹ تبدیلی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یوزر ڈیفائنڈ میں نفیس نستعلیق اور جو فانٹ بھی آپ چاہیں اس کا انتخاب کر کے او کے کر دیں۔


امید ہے کہ اس طرح آپ ہر اردو صفحے کو صحیح پڑھ سکیں گے۔ سمت کے لۓ ہم نے نفیس نستعلیق فانٹ ہی چن رکھا ہے اس لۓ اسے کرلپ (http://crulp.org) کی سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کر لیا ہو (یعنی ڈاؤن لوڈ کر کے ونڈوز کے فانٹس فولڈر میں کاپی کر لیا ہو) تو یہ صفحات نستعلیق میں ہی پڑھ سکیں گے۔

یہاں ایک بات اور بتانا ضروری ہے۔ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ نے اردو نسخ ایشیا ٹائپ فانٹ کو کافی مقبول کر دیا ہے اور اکثر ویب سائٹس اسی کو استعمال کرتی ہیں۔ اس لۓ میرا مشورہ ہے کہ اگر آپ محض نستعلیق کو اردو سمجھتے ہیں تو بے شک نفیس نستعلیق فانٹ چن لیں، ورنہ اردو نسخ ایشیاٹا ٹپ فانٹ کا انتخاب بہتر ہو گا یعنی مسائل کم ہوں گے۔ افسوس کہ دور حاضر میں یہ ایک ہی نستعلیق فانٹ دستیاب ہے، اردو سیک ڈاٹ کام(http://urduseek.com) نے ایک اور فانٹ جوہر بنایا ہے لیکن وہ اسے ڈاؤن لوڈ نہیں کروا رہے۔ انھوں نے اس فانٹ کو اپنی سائٹ میں حلول (Embed) کر دیا ہے۔ اور محض انٹر نیٹ ایکسپلور میں یہ نستعلیق فانٹ نظر آتا ہے، دوسرے براؤزرس میں نہیں۔

راقم نے ایک اور خط نسق کو رواج دینے کی کوشش کی ہے جس کے حروف کی شکل تو نستعلیق ہو لیکن حروف کا پھیلاؤ نستعلیق کی طرح عمودی نہ ہو۔ اس قسم کے دو فانٹس بھی بناۓ گے ہیں۔ اس سلسلے میں یہی کہنا بہتر ہوگا کہ اگرچہ اردو تحریر ابھی مکمل ترقی یافتہ تو نہیں ہوئی ہے لیکن اس کی ترقی تب ہی ممکن ہے جب اسے قبول عام حاصل ہو۔

انٹر نیٹ پر اردو تحریر کیسے لکھیں

اردو تحریر لکھنے کےچارطریقے ہپں۔ سب سے بہتر تو یہ ہوگا کہ آپ اپنے آپریٹنگ سسٹم کو ہی اردو کے لۓتیار کر لیں تا کہ آپ ہر سافٹ ویر میں اردو لکھ سکیں۔ لیکں اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو سسٹم میں تبدیلی کرنے سے خوف کھاتے ہیں تو ہم دوسری تین ترکیبیں پہلے بتادیتے ہیں۔

1۔ آپ اردو اوپن پیڈ یا اردو لائٹ؛ اردو یونی پیڈ یاانشاءپرداز سافٹ ویر انسٹال کریں۔ ان کا کلیدی تختہ ان پیج کے فونیٹک کی بورڈ کی طرح صوتی ہے۔ یہاں آپ انشاپرداز کے سوا اپنا ڈاکیومنٹ محفوظ بھی نہیں کر سکتے، لیکن ٹائپ کر کےورڈ، ورڈ پیڈیا نوٹ پیڈ میں پیسٹ کر کے محفوظ کر سکتے ہیں۔ خیال رکھیں کہ نوٹ پیڈ میں بطور ٹیکسٹ فائل محفوظ کرتے وقت بھی آسکی کی جگہ یوٹی ایف ان کوڈنگ چنیں۔

2۔ آپ آن لائن پیڈاستعمال کریں جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ اردو ویب فورم اور اردو لائف کی فورم ’بات سے بات‘ کی ویب سائٹس میں یہ سہولت دستیاب ہے۔یہاں سے بھی آپ کاپی کر کے جس طرح اور جہاں چاہیں، کاپی پیسٹ کر کے محفوظ کر سکتے ہیں یا ای میل کر سکتے ہیں۔

3۔تیسری ترکیب موزیلا، فائر فاکس میں تو صحیح کام کرتی ہے لیکن دوسرے براؤزرس میں ممکن ہے کہ ہر سسٹم میں کار آمد نہ ہو۔ یہ ہے فائر فاکس کا اردو بک مارکلیٹ۔ اسے ویب صفحے سے ماؤس سے کھینچ کراپنے براؤزر کی پرسنل بار میں لگا دیں۔جب اردو ٹائپ کرنا ہو، اس بٹن پر کلک کریں۔ یہ ایک اردو پیڈ پیش کرتا ہےجو اردو لائٹ کی طرح ہی کام کرتا ہے۔اس کا کلیدی تختہ بھی ان پیج کی طرح صوتی ہے۔ یہاں ٹائپ کر کے بھی آپ جہاں چاہیں کاپی۔پیسٹ کر سکتے ہیں۔

4۔ اور آخرمیں یہ کہ آپ ونڈوز میں ہی اردو کا اضافہ کریں۔ اس کے لۓ کسی سافٹ ویرر کی ضرورت نہٰیں محض وندوز ایکس پی کی سی ڈی کی ضرورت ہوگی۔ اگر آپ صوتی کی بورڈ چاہیں تو اسے ڈاؤن لوڈ اور انسٹال کرنے کی ضرورت ہوگی ورنہ نہیں۔ اس صورت میں کنٹرول پینل میں جائیں اور ریجنل و لنگویجیز سیٹنگ کلک کریں۔ یہاں لنگویجیز کے ٹیب میں اگر آپ ڈیٹیل کا بٹن دبائیں تو آپ کو محض انگریزی کا اندراج نظر آۓگا اور دوسری زبان کا اضافہ کرنا چاہیں اور ایڈ بٹن دبائیں تو بھی محض مغربی زبانوں کا شمول کر سکیں گے اس لۓ کہ آپ کا آپریٹنگ سسٹم ابھی مشکل رسم الخط (Complex Script)کے لۓ تیار نہیں ہے۔ واپس جاکر دیکھیں تو آپ کو نیچے کی سمت یہ تحریر نظر آۓ گی:

Install Files for Complex Script and right-to-left languages


اس کو ٹک کرکے( کلک کریں کہ صحیح کا نشان لگ جاۓ ) او کے کریں۔ اب آپ کو ونڈوز اس سی ڈی کو رکھنے کی فرمائش کرے گا جس سے ونڈوز اسٹال کیا گیا ہے۔ سی ڈی لگائیں اور کمپیوٹر دوبارہ سٹارٹ کریں جب ونڈوز کہے۔ ونڈوز اب نہ صرف مختلف زبانیں بلکہ موجود فانٹس کے بھی نۓ ورژن انسٹال کرے گا، مثلاً ٹائمس نیو رومن اور ٹاہوما جس میں اردو کے حروف شامل ہوں گے۔ اس بار آپ پھر کنٹرول پینل میں وہی اعمال کریں لیکن اب لنگویجیز کے بٹن میں ایڈ کے بٹن کو کلک کرنے پر آپ کو اردو کا اندراج بھی نظر آۓ گا۔ اس کو منتخب کرتے ہی آپ کو ڈیسک ٹاپ پر لنگویج بار (Language bar) نظر آنے لگے گی اس جگہ جہاں ونڈوز میں وقت دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ اس بار کو وہاں سے دوسری جگہ منتقل بھی کیاجا سکتا ہے۔ اس بارپر کلک کریں تو آپ کو انسٹال شدہ زبانوں کو چننے کا اختیار حاصل ہوگا۔ جب چاہیں انگریزی منتخب کر کے انگریزی ٹائپ کریں، جب چاہیں اردو۔ اور اگر دوسرا کی بورڈ انسٹال کرنا چاہیں، تو اسی سیٹنگ میں جب آپ اردو کو جوڑیں تو نیچے والے خانے میں آپ کی بورڈ کا انتخاب بھی کر سکتے ہیں۔ ونڈوز کا ڈی فالٹ کلیدی تختہ مقتدرہ نوعیت کا ہے۔ صوتی استعمال کرنا چاہیں تو ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کر سکتے ہیں اور اب یہ یہاں دستیاب ہوگا۔

اس طرح آپ جس سافٹ ویر میں جس زبان میں کچھ ٹائپ کرنا چاہیں، کر سکتے ہیں۔

امید ہے کہ اس مختصر تفصیل سے کچھ واضح ہوا ہوگا کہ ہم اردو تحریر کو کیوں بڑھاوا دیتے آ رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اردو دنیا جتنی جلدی اردو تحریر یعنی یونی کوڈ کو اپنا لے گی، اردو کی ترقی کی راہیں دور جدید میں مزید ہموار ہوں گی۔


پس تحریر:

نفیس نستعلیق فانٹ کے بارے میں میں نے اس مضمون میں لکھا تھا کہ اب تک یہی ایک اردو نستعلیق فانٹ بنایا گیا ہے اور اسی کے لحاظ سے میں نے اس مضمون میں اس فانٹ کا ذکر کیا تھا۔ اب پتہ چلا ہے کہ جلد ہی ادارہ مقتدرہ اردو زبان ایک نیا پاک نستعلیق فانٹ ریلیز کرنے جا رہا ہے جو نفیس نستعلیق کی بہ نسبت بہت زیادہ تیز ثابت ہوگا۔ انشاءاللہ اس فانٹ کے ریلیز ہوتے ہی یہ جریدہ اس فانٹ میں دستیاب کر دیا جاۓ گا۔ یعنی اگر نستعلیق میں ہی پڑھنا پسند کریں تو اس فانٹ کو ڈاؤنلوڈ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اگر کچھ ڈاؤن لوڈ نہ بھی کریں تب بھی اس جریدے کو ٹاھوما فانٹ میں بہر حال پڑھا جا سکے گا۔

راج کمار سینی کی دو ہندی نظمیں

(محض رسم الخط کی تبدیلی کے ساتھ)

رواج

سکھ اور دکھ

جیون کی تھالی میں

پروس دۓ کس نے

نمکین الگ

مٹھائی الگ

سب کچھ کھانا ہے

جھوٹھا نہ چھوڑنے کا رواج نبھانا ہے

دنگے کے بعد

کیسی سڑک ہے

اس پر کوئی نہیں چلتا

کیسی گلی ہے

اس میں کوئی نہیں گھستا

کیسا گھر ہے

یہاں کوئی نیں رہتا

کیسی کھڑکی ہے

اس سے کوئی نہیں جھانکتا

کیسا دروازہ ہے

اس سے نہ کوئی باہر جاتا ہے

نہ اندر آتا ہے

کیس شہر ہے

یہاں کوئی نہیں بولتا

کوئی نہیں سوچتا

کوئی نہیں روکتا

وَمَا اَدرٰ کَ ماالقَارِعَہ

آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے تناظر میں

عارف فرہاد


بتا اے اِبنِ آدم !

کیا خطا تجھ سی ہوئی تھی؟

کہ جب تو آٹھ اکتوبر کو

شب بھر چین سے سو کر اُٹھا تو

یوں لگا جیسی ابد کی نیند سے تجھ کو کسی ”القَارِعَہ“ نے خود جگایا ہو

تو پھر تجھ کو بھی یہ ادراک ہو جانے لگا ہو

کہ یہ ”القَارِعَہ“ کیا ہے؟

سُنا ہے چند لمحوں کی لئے سارے علاقے کے پہاڑ اُڑنے لگے

اور دیکھتےہی دیکھتے سارے مکیں

اپنےگھروں کے ڈھیر میں اوندھے پڑے تھے

ہر اک بستی، ہر اک مکتب

مساجد، مدرسے اور دفتری دیوار و در

یوں اپنی چھت کے نیچے خود ہی آکر دب چکے تھے

کہ جیسے مالکِ کُل نے تباہی کے فرشتے کو اشارہ کر دیا ہو

اور اُس نے حکم پاتے ہی

مظفر باد، بالا کوٹ، اَلائی ،مانسہری اور

ان سے ملحقہ سارے علاقوں کے

مہکتےگلستانوں میں

اجل کی آگ بھر دی ہو

تمہیں معلوم کیا اے ابنِ آدم۔۔۔!

تمہیں معلوم کیا وہ آگ کیا تھی؟

وہ نارٌ حامیا کا اک شرارہ تھی

جسے معصوم مٹی سہہ نہ پائی

اور بہت ہی مضطرب، بے چین ہو کر

کروٹیں لینی لگی

کروٹیں ایسی کہ چند لمحوں میں

سارے شہر غم کی راکھ بن کر بجھ گۓ ہیں!

پردے جو نفرتوں کے تھے

ڈاکٹر بلند اقبال

ہارمونیم کے پردوں کے پیچھے چھپا ہوا میٹھا سُر جنم جنم سے ان دیکھی مشتاق انگلیوں کا منتظر تھا۔۔ انگلیاں جو بولتی ہو، انگلیاں جو دیکھتی ہو، انگلیاں جو ہنستی ہو ، انگلیاں جو روتی ہو۔۔۔انگلیاں جو ڈھولک کی تھاپ ، سارنگی کے سُراور با نسری کی لے کے ساتھ ہارمونیم کے اُس میٹھے سُر کو کچھ اس طرح سے ملا دے کہ ایک ایسا سنگیت جنم لے کہ جس کی ہر تان ایک دیپک ہو۔

مگر ۔۔بادل گزرتے رہے، سورج اُبھرتا ڈوبتا رہا اور موسم بدلتے رہے۔۔ سا رنگی ہارمونیم کے میٹھے سُر کے لۓ ترستی رہی، بانسری کی لے ڈھولک کی تھاپ کے انتظار میں روتی رہی ۔۔۔ ہارمویم کا سچا سُر کہیں کھوگیا تھا ، سنگیت بنا جنم لۓ مر رہا تھا۔

بلاخر تھک ہار کر ایک رات کے پچھلے پہر کچھ انگلیاں ہارمونیم کے پردوں پر سر سرائی، ہارمونیم کے سوئے ہوئے میٹھے سُر نے نیند کی آغوش میں کروٹ لی، اور پھر دھیمے سے ڈھولک کی تھاپ کے کان میں کچھ ایسی بات کہی کہ ڈھولک کی تھاپ اک دم شرما سی گئی اور پھر بانسری کی لے کے ساتھ کسی ناچتی ناگن کی طرح بل کھا کر اُٹھی۔

مگر اس سے پہلے کہ سنگیت کی جل ترنگ فضاوں میں گنگناتی

ہارمونیم کا میٹھا سُر معصوم روتے ہوئے بچوں کی آوازوں میں کراہنے لگا۔ ڈھولک کی تھاپ ماوَں کے سینے کوٹتے ہوئے بے ہنگم شور میں بدلنے لگی۔ سارنگی سے نکلتے ہوئے سُر ہوائی جہازوں کی بے سُری چنگہاڑتی ہوئی آوازوں سے کانپنے لگے۔ بانسری کی لے روتے ہوئے گیدڑوں کی آوازوں میں ڈھلنے لگی۔ سنگیت نوحہ بننے لگا ۔ ہر طرف دھواں دھواں ہونے لگا۔ سُر رو رہا تھا اور سنگیت مر رہا تھا۔

اور پھر سُر نے روتے ہوئے اُن مشتاق انگلیوں کی طرف دیکھا جو ہارمونیم پر ناچ رہی تھیں۔۔۔۔انگلیاں ۔۔ جو خون میں ڈوبی ہوئی تھیں۔۔ انگلیاں جو درد کے قصے بانٹتی تھیں۔۔ انگلیاں جو زندگیوں میں عزاب بن کر ناچتی تھیں۔۔ انگلیاں جو عزتیں بھمبھو ڑتی تھیں ۔۔ انگلیاں جو گولیاں چلاتی تھیں ۔۔ انگلیاں جو بم گراتیں تھیں۔۔ انگلیاں جو زیست کے نوالے بناتی تھیں ۔۔ انگلیاں جو خون چاتتی تھیں۔۔۔ انگلیاں جو خون میں ڈوبی ہوئی تھیں ۔۔۔ انگلیاں جو خون میں ڈوبی ہوئی تھیں۔

اور پھر تھک ہار کر ڈھولک نے ہارمونیم کا ساتھ چھوڑ دیا۔ سارنگی روتے روتے سوگئی۔ سُر پھر سے ہارمونیم کے پردوں میں چھپ گیا۔

اُس چاندنی رات کے پچھلے پہر ہر سو موت کی سی خاموشی تھی۔

۔۔۔۔ کچھ لمحوں کے بعد ہارمونیم پر جمی انگلیاں دھیمے سے سر سرائی اور آہستگی سے ہارمونیم کے پردوں کو تکنے لگی۔پردے۔۔۔ جو نفرتوں کے تھے۔

ہار۔جیت

ریحانہ احمد

کسی بیدرد لمحے میں